لاہور، آج سے تیس سال کے بعد ہماری آبادی پینتالیس کروڑ لوگوں پر محیط ہوگی ، چیف جسٹس
چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ یقین مانیے میری
محبت اس پیشے کے ساتھ اور ہر کالج وہسپتال کے ساتھ اتنی ہی ہے جتنی
بہالپور، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کے میڈیکل کالج اور ہسپتال کے ساتھ
ہے اور یہ محبت یکطرفہ نہیں ہے۔
لاہور میں سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے چوتھے کانووکیشن کی تقریب
سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا
تھا کہ میں ایک کمال تجربہ شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے موقع ملا میں
بلوچستان گیا اور وہاں پر پتہ چلا کہ سب سے اعلیٰ ہسپتال کوئٹہ کی حالت
ابتر ہے ، الٹراساؤنڈ مشین، سی سی یواور آئی سی یو تک ہسپتال میں موجود
نہیں تھا۔ ہسپتال میں بے شمار اسامیاں خالی پڑی تھیں ، میں نے وزیرا علیٰ
بلوچستان کو بلایا اور ہسپتال کا دورہ کیا۔ وہاں گئے تو پتہ چلا کہ ڈاکٹرز
سراپا احتجاج تھے، میں نے احتجاج کرنے والوں سے کہا کہ وہ ہڑتال ختم کردیں
انہوں نے مجھے دیکھ کر ہڑتال ختم کردی لیکن میں نے ان سے وعدہ کیا کہ ان کے
تمام جائز مطالبات کو تسلیم کرواؤں گا اور میں نے ایسا ہی کیا۔ یہ ہے میری
پیشے کیلئے محبت جو کسی علاقے کے ساتھ نہیں ہے۔
چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ جتنے بھی وسائل ہیں
زیادہ سے زیادہ تعلیم پر صرف ہونے چاہئیں۔ ایک ایک فرد اس ملک کا ایک لاکھ
اکیس ہزار روپے کا مقروض ہے، جو بچہ پیدا ہورہا وہ مقروض پیدا ہورہا ہے۔
اور تعلیم کا جو حال ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ آبادی بڑھ رہی ہے، وسائل کم
ہورہے ہیں۔ آج سے تیس سال کے بعد ہماری آبادی پینتالیس کروڑ لوگوں پر محیط
ہوگی اور پانی کے ذخیرے کیلئے ہم کوششیں کررہے ہیں۔