کراچی پریس کلب میں ہر سال کی طرح امسال بھی نئے عہدیداران کیلئے انتخابات
کاانعقاد کیا گیا۔ کراچی پریس کلب کے انتخابات میں دو گروپس پروگریسیو اور
دی ڈیموکریٹس کے مابین مقابلہ ہے۔ پروگریسو کی طرف سے صدر امتیاز خان فاران
اور دی ڈیموکریٹس کی جانب سے احمد علی ملک نے صدارتی امیدوار کے طور پر
مقابلے میں حصہ لیا ہے۔ انتخابات کے دن کراچی پریس کلب کے ارکان اپنا حق
رائے دہی استعمال کررہے ہیں۔
اس موقع پر سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے سابق صدر مقصود یوسفی کا
کہنا تھا کہ کراچی پریس کلب میں آج روایتی انداز میں سالانہ انتخابات ہورہے
ہیں، کے پی سی کی روایت رہی ہے کہ 1958 ء سے آج تک ہر سال باقاعدگی سے
الیکشن ہوتے ہیں۔ ہر سال الیکشن میں منتخب ہونے والے لوگ اپنی ذمہ داریاں
سنبھالتے ہیں، اس سے پہلے کوئی پابندی نہیں تھی لیکن گزشتہ دس سال پہلے
آئین میں ایک ترمیم ہوئی تھی ، جس کے تحت اب ایک عہدے پر ایک فرد صرف دو
بار الیکشن لڑ سکتا ہے اور جیتنے کے بعد ایک سال تک مزید اپنی ذمہ داریاں
اد اکرسکتا ہے، اس کے بعد اس کی گنجائش نہیں ہوتی، اس طرح ہمارے نئے
ساتھیوں کو آنے کا موقع ملتا ہے اور ہر سال جو امیدوار فتح حاصل کرتے ہیں
وہ ایک سال کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، کراچی پریس کلب جمہوری
قوتوں کا پروردہ رہا ہے، ہمیشہ جمہوری طاقتوں کو سپورٹ کیا ہے اور خود
جمہوریت کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے ہر سال کسی رکاوٹ کے بغیر انتخابات
کرواتا ہے اور یہ تمام جمہوری جماعتوں کیلئے ایک مثال ہے کہ وہ اس پر عمل
کریں اور خود اپنے اندر جمہوریت پیدا کریں۔
سینئر صحافی فاضل جمیلی کا کہنا تھا کہ کراچی پریس کلب کے ممبران ہر سال
اپنے نئے عہدیدار منتخب کرتے ہیں اور اس کی خوبصورتی یہ ہے کہ جیسے ہی یہ
الیکشن ختم ہوتا ہے اس کے بعد جنرل کونسل ہوتی ہے اوراس کے بعد الیکشن
کمیٹی منتخب عہدیداروں کا اعلان کرتے ہیں اور نئے عہدیداران اپنی نشستیں
سنبھال لیتے ہیں ، کوئی حلف برداری نہیں ہوتی، اسی سے سارا نظام نئے آنے
والوں کو منتقل ہوجاتا ہے، یہی اسی کی خوبصورتی ہے، آنے والے سالوں میں بھی
کراچی پریس کلب اسی طرح تمام لوگوں کیلئے تمام اداروں کیلئے ایک مثالی
کردار ادا کرتا رہے گا۔