مہنگائی
کی چکی میں پسے شہریوں پر منی بجٹ سے پہلے ایک اور بم گراتے ہوئے وفاقی
حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی جس
کے بعد ملک بھر کی تمام میڈیسن کمپنیوں نے نہ صرف اپنی تمام ادویات کی
قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے بلکہ انسانیت سے عاری بعض کمپنیوںاورمفاد پرست
ڈسٹری بیوٹرز نے جان بچانے والی دوائوں کی قلت بھی پیداکردی ہے۔
شہریوں نے قیمتوں میں ناجائز اضافے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے
حکومت پر شدید تنقید کی ہے جبکہ میڈیکل اسٹور چلانے والوں کا کہنا ہے کچھ دوائوں کی
قیمتیں تو کمپنیوں نے منظوری سے پہلے ہی بڑھا رکھی ہیں۔ ڈالرکی قیمت بڑھنے
پر دوا ساز کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔
میڈیکل
اسٹور چلانے والے نورالدین کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے
دواﺅں کی قیمتوں پر اثرتو ہونا ہی تھاکیونکہ اس کی وجہ سے خام مال
مہنگاہوتا ہے جس پیداواری لاگت بڑھنے سے قیمت میں اضافہ ناگزیرہوجاتاہے
،انہوں نے کہا غریبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈالر کی قیمت بڑھنے کا اثر دواﺅں
پر نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ دوائیں بنا نے پر اتنی لاگت نہیں آتی جتنی
اس کی خوردہ قیمت ہوتی ہے۔
محمد فراز کہنا تھا کہ دواﺅں کی قیمتوں کو کم ہونا چاہیے لیکن میڈیکل
اسٹور والے اپنی قیمت پر ہی دوائیں بیچ رہے ہیں،کمپنیوں کی جانب سے ابھی تک
کوئی نئے نرخ نامے موصول نہیں ہوئے ہیں۔
ایک
صارف محمد سہیل کاکہنا تھا کہ سرکاری اسپتالوں میں صرف غریب آدمی ہی آتا
ہے جو دوائیں خرید ہی نہیں سکتا تو اس کیلئے سستی دواﺅں کو کوئی انتظام
ہوناچاہیے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو غریبوں کو مہنگی کے بجائے سستی
ادویات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرناچاہیے۔