چیف
جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے دورعدلیہ پر لوگوں کا ملا جلاردعمل
سامنے آیا ہے، زیادہ ترلوگوں نے چیف جسٹس کے دور کو اچھا کہا ہے جبکہ کچھ
کے خیال میں یہ پہلے جیساہی تھا۔چیف جسٹس کادورعدلیہ اور انکے تمام چھوٹے
بڑے فیصلے عوام کے سامنے ہی ہیں لیکن حقیقت ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سامنے
آئے گی کہ لوگ انہیں کیا اورکیسا سمجھتے تھے۔
ایک
سینئرصحافی کاکہناتھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثارکے دورمیں میڈیا کومشکلات
دیکھنی پڑیں اگروہ اپنے دورمیں میڈیا کے معاملات نمٹادیتے تو آج
میڈیاانڈسٹری بحران کاشکارنہ ہوتی۔بحران کی وجہ سے ہزاروں صحافی اور
ورکرزبیروزگارہوچکے ہیں اوران کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔ چیف جسٹس
ثاقب نثاراپنے دورمیں صحافیوں کو انصاف نہیں دے پائے۔
ایک
اور صحافی کاکہنا تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثارکادور اس حوالے سے بہت اچھا
تھا کہ عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے انہوں نے بہت سارے سوموٹو لئے تھے جس
سے غریبوںکافائدہ ہواجبکہ ریاستی امورپر کئے گئے فیصلوں سے ملک و قوم کا
فائدہ ہوا،پہلی مرتبہ عام آدمی کو احساس ہوا تھا کہ عدلیہ اس کی پہنچ سے
دور نہیں ہے اور وہ چیف جسٹس ثاقب نثارتک جاسکتا ہے۔مجموعی طورپر چیف جسٹس
ثاقب نثارکا دور بہت اچھا دور رہا۔
ایک
سینئر صحافی کاکہنا تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثارنے ملک بھر کے بلکہ
خصوصاًکراچی کے عوامی مسائل کا نوٹس لیا اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے
سلسلے میں اہم کردارادا کیا، جبکہ ان کا سب سے اہم کام کراچی سے تجاوزات کا
خاتمے کاحکم دیناتھا۔