بازار
کا ناشتہ لاہوریوں کی زندگی کا ایک لازمی جزو ہے اور اندرون لاہور میں
گوالمنڈی کی فوڈ اسٹریٹ ہو یا بھاٹی گیٹ، پرانی انارکلی کا علاقہ ہو یا
ایبٹ روڈ یا پھر ٹیمپل روڈ کا علاقہ علی الصبح لاہوریوں سے بھرا ملتا ہے۔
اس
رحجان کی وجہ سے ہریسہ، نہاری اور سری پائے کے ناشتے کی وسیع ورائٹی ہے
جبکہ سری پائے کی ڈش کو لاہوریوں کا مرغوب ترین ناشتہ بھی کہا جا سکتا
ہے۔یہاں سری پائے بڑے پیالوں میں پیش کئے جاتے ہیں اور اسے کھانے والوں میں
بڑوں اور بچوں کی کوئی تمیز نہیں بلکہ اگر بچے پیالے میں موجود سالن سے
’انصاف‘ نہ کر پائے تو اسے ساتھ لانے والے بزرگ ناراضگی کا اظہار کرتے
ہیں۔سری پائے کھانے کے بعد اگر لسی نہ پی جائے تو لاہوریوں کا ناشتہ مکمل
نہیں ہوتا۔ میٹھی لسی کو عام زبان میں ’جامِ غفلت‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ
چکنائی سے بھرپور ناشتے پر میٹھی لسی پینے والے پر نیند کا غلبہ طاری کر
دیتی ہے اور اس کے پاس ناشتے کے بعد ایک بار پھر سونے کے علاوہ اور کوئی
چارہ نہیں رہتا۔
سردی
کے موسم میں پائے کے ناشتے سے محظوظ ہونے والے ایک شخص کا کہنا تھا کہ
گوالمنڈی کے پائے سردی کے موسم میں سب سے بہترین ناشتہ ہیں،میں ہراتوار کو
علی الصبح یہاں ناشتے کیلئے ضرور آتا ہوںاور لذیزترین پائے خوب انجوائے
کرتا ہوں۔
صبح
کے وقت ناشتے کیلئے آنے والے ایک اور شخص کاکہنا تھاکہ پائے کی یہ دکان
گوالمنڈی کی سب سے پرانی سب سے بہترین اور معیاری و صاف ستھرے کھانے کی
واحد دکان ہے جہاں وہ اکثر کھانے کیلئے آتا رہتاہے،جبکہ ہراتوار کو یہاں
لازمی آیا جاتا ہے۔یہاں پر لاہورکے علاوہ دیگرشہروں سے لوگ کھانے کیلئے آتے
ہیں۔
ایک
اورشخص کا کہنا تھا کہ صبح صبح سردی کے موسم میں یہاں کے ناشتے کو انجوائے
کرنے کیلئے آئے ہیں تاکہ ٹھنڈے موسم میں گرم پائے کھانے کا مزہ دوبالا
ہوجائے۔
سری
پائے سے ناشتہ کرنے والے ایک نوجوان کاکہنا تھا کہ وہ پوراہفتہ کام کرکے
ذہنی اورجسمانی طورپر تھک جاتا ہے اور اپنی ذہنی وجسمانی تھکن اور ٹیشن سے
جان چھڑانے کیلئے سری پائیے کے لذیزناشتے کے علاوہ اسے کوئی دوسرا راستہ
نظر نہیں آتا۔