موجودہ سیاسی کشمکش کے تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کراچی سے قبل
ماحول کو سازگار بنانے کیلئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کراچی پہنچ
گئے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف قوتوں اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے رابطوں کے
امکانات روشن ہوگئے جو کہ سندھ سرکار کیلئے مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر آج بے نظیر بھٹو شہید زندہ ہوتیں تو سب سے
زیادہ دکھ ان کو ہوتا کیونکہ جس طرح سے طے تھا این ایف سی ایوارڈ میں تمام
صوبے حصہ ڈالیں گے لیکن صرف ایک صوبہ حصہ نہیں ڈال رہا اور وہ سندھ ہے،
باقی تینوں صوبوں اور وفاق نے فاٹا کی ترقی کیلئے اپنا حصہ ادا کیا ہے ۔یہ
خود کو جمہوریت کا چہرہ بناکر پیش کرنے کی بات کرتے ہیں جب عملی کام آتا ہے
تو خود کو فاٹا سے لا تعلق کردیتے ہیں، میرے خیال میں وہ پیسے بھی سندھ کے
غریبوں میں خرچ نہیں ہونے وہ پیسے بھی اومنی گروپ اور زرداری گروپ آف
کمپنیز کی جو بڑی بڑی شاخیں ہیں ان میں چلا جاتا ہے، دکھ کی بات یہ ہے کہ
سندھ کے عوام کا پیسہ لندن، دبئی میں خرچ ہورہا ہے کراچی کا حشر نشر ہورہا
ہے۔
فواد چوہدری کے مطابق سندھ میں پیچھے بینچوں پر بیٹھے پیپلز پارٹی کے
اراکین جو ووٹ لے کر آتے ہیں وہ بھی اس صورتحال پر خوش نہیں ہیں۔ تبدیلی کا
سفر شروع ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی خود تبدیلی لے آئے، مراد
علی شاہ استعفیٰ دیدیں، نیا وزیراعلیٰ لے آئیں، ہم پہلے موقع دینا چاہتے
ہیں، اگر موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا تو یقینی طور پر ہمیں عملی اقدامات
لینے پڑیں گے،پیپلز پارٹی کی بھرپور اکثریت اس وقت سند ھ میں وہ ہمارا
ساتھ دے گی۔