لاہور، لاہور کا ٹرک آرٹ
جس طرح
قدرت نے دنیا کو خوبصورت اور دلکش بنانے کے لئے رنگوں کا سہارا لیا ہے اسی
طرح انسان بھی ہمیشہ اپنی ارد گرد کی چیزوں کو خوبصورت بنانے کے لئے انہیں
رنگوں سے سجانے کی خوب کوشش کرتا ہے۔برصغیر پاک وہندمیں اس کی سب سے بڑی
اور زندہ مثال ”ٹرک آرٹ“ ہے۔
ٹرک
آرٹ ہندوستان اورپاکستان کا قدیم فن ہے اوراس سے ہزاروں لوگ وابستہ ہیں۔
ٹرک مالک کی سب سے پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس کا ٹرک سب سے منفرد اور
خوبصورت نظر آئے اور اس لئے وہ منہ مانگے پیسے خرچ کرتاہے۔
ٹرک
کامالک کاریگر کام کاڈیزائن اور طریقہ کار بتاتا ہے جس کے بعد کام شروع
کردیاجاتاہے، سب سے پہلے ٹرک کا فریم اور باڈی تیاری کی جاتی ہے ، ٹرک کو
سجانے کے لئے کم از کم تیس دن کا عرصہ درکار ہوتا ہے اوراس پر تقریباً دو
سے تین لاکھ کا خرچہ آتا ہے۔ ٹرک کی سجاوٹ کے دوران تقریباً تین کاریگر
روزانہ اس پر کام کرتے ہیں۔
ایک
ٹرک آرٹسٹ منیر اسلام کاکہنا ہے کہ وہ کام سیکھنے کے بعد 40سال سے ٹرک
آرٹ کا کام کررہا ہے ،وہ ہرقسم کے ٹرک آرٹ کا کام کرتے ہیں،انہوںنے بتایا
کہ سب سے پہلے پورے ٹرک پر رنگ کیا جاتاہے جس کے بعد سجاوٹ اور پینٹنگ
کاکام شروع ہوتاہے جو آرٹسٹوں کی پوری ایک ٹیم کرتی ہے۔
ٹرک
مالک محمد جنید شاہ کا کہنا تھا کہ پینٹنگس اور ڈیزائن سے مزین ٹرک بہت
خوبصورت اور اچھا لگتاہے اسی لئے ٹرک کی سجاوٹ کروائی جاتی ہے،انہوں نے کہا
کہ بہت سے لوگوں کو یہ چیز اچھی نہیں لگتی لیکن ہم لوگ اسے اچھا سمجھتے
اوردیکھتے ہیں۔