کراچی، جدیدیت نے طوطا فال کاکاروبار بھی ختم کردیا
ہیں شہر کے فٹ پاتھ بھی سینکڑوں افراد کومختلف روزگار فراہم کرتے ہیں جن میں سے ایک طوطا فال نکالنے والے بھی ہیں۔
ریگل
چوک سے صدر ایمپریس مارکیٹ جاتے ہوئے چرچ کی دیوار کے ساتھ فٹ پاتھ پر
بیٹھے بابا رمضان کاواحد زریعہ معاش طوطافال ہے۔ وہ 1971سے اسی جگہ پر
لوگوں کیلئے طوطے سے فال نکلواتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فال ان کی یاکسی اور
کی جانب سے تحریرشدہ نہیں ہوتی بلکہ یہ قرآنی اور پیغمبری فال ہوتی ہیں جو
ان کے آباواجداد کے زمانے سے چلی آرہی ہیں۔
ادھیڑ
عمر بابا رمضان 1971 سے اس فٹ پاتھ پر طوطا فال نکالنے کا کام کر رہا ہے
اوروہ صرف 20 روپے میں لوگوں کی قسمت کا حال اور ان کے مسائل کا حل فال
نکال کر بتاتا ہے۔ان کے پاس پہلے دن بھر لوگوں کارش لگا ہوتا تھالیکن اب
شاد ونادر ہی کوئی آتا ہے۔
اپنے
بارے میں بابا رمضان نے بتایا کہ "1971 کی جنگ ان کی اس مزدوری کا پہلا دن
تھا، جب وہ کراچی کی اس فٹ پاتھ پر فال نکالنے بیٹھے تھے،وہ اپنے اس کام
کے بارے میں مکمل مطمئن اور پر یقین ہے۔ شاید یہی یقین کامیابی کا ضامن ہے۔
بابارمضان
اپنے طوطے کی مدد سے کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھی تحریر پڑھ کر سناتا ہے۔ بابا
رمضان کے بقول ”ان فالوں میں لوگوں کی قسمت کا حال چھپا ہوتاہے“۔