بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیورولوجی یولوجی کوئٹہ میں مسائل کے انبار لگ گئے۔
آپریشن کے لئے استعمال ہونے والی مشینیں جواب دے گئیں، آپریشن تھیٹر میں
لائٹس، اسٹریچر اور آلات نہ ہونے سے مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔
ڈائیلیسس اور پتھری کا علاج کروانے والے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات
لاحق ہوگئے۔ ہسپتال میں بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کی وجہ سے نجی
ہسپتالوں میں روانہ کیا جانا معمول بن گیا ہے۔
اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیورو لوجی
یورولوجی کوئٹہ پروفیسر عبدالکریم زرغون کا کہنا تھا کہ انسٹی ٹیوٹ کو
سنبھالے ہوئے تین سال بھی پورے نہیں ہوئے، جب یہاںآئے تھے یہاں کچھ بھی
نہیں تھا۔ انسٹی ٹیوٹ میں اب تک 27 ٹرانسپلانٹ کئے جاچکے ہیں۔ ہم نے 60 سے
70 کروڑ روپے مالیت کی مشینری کی درخواست دے رکھی ہے اور قوی امید ہے کہ
آئندہ مارچ کے آخری ایام میں مشینیں انسٹی ٹیوٹ میں انسٹال کردی جائیں گی۔
ہمیں ہوٹا ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی منظوری بھی مل چکی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کے سرجن ڈاکٹر اسد نے سہولیات کی عدم دستیابی کا شکوہ کرتے ہوئے
کہا کہ ہم نے بارہا اس بابت درخواستیں دی ہیں ،ہمیں گزشتہ چار سالوں سے
طفل تسلیاں دی جارہی ہیں تاہم ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ مجبوراً
ہمیں مریضوں کو نجی ہسپتالوں میں بھیجنا پڑتا ہے۔مریضوں کی اسٹریلائزیشن
چھوٹے سے ڈبے کی مدد سے کی جارہی ہے جو کہ مریضوں کیلئے بہت خطرناک ہے۔
بحیثیت ڈاکٹر میں کسی مریض کو شفا نہیں دے سکتا تو میں اسے مزید بیماری میں
مبتلا بھی نہیں کرسکتا۔ میرا ضمیر مجھے گوارا نہیں کرتا۔
انہوں نے چیف جسٹس آف بلوچستان، وزیرا علیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر صحت اور
سیکریٹری بلوچستان سے درخواست کی کہ انسٹی ٹیوٹ کی حالت زار کا فوری نوٹس
لیتے ہوئے اس کے مسائل کو حل کیا جائے۔