ساہیوال
میں مبینہ پولیس مقابلے میں 4 معصوم افراد کی ہلاکت پر 16 نامعلوم سی ٹی
ڈی اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔زرائع ابلاغ کے مطابق ساہیوال میں
سی ٹی ڈی پنجاب کے ہاتھوں قتل کئے جانے والے ایک ہی خاندان کے لواحقین کی
جانب سے چاروں افراد کی لاشوں کے ہمراہ رات گئے سے جاری جی ٹی روڈ پر دھرنے
نے اثر دکھایا جس کے بعد پولیس نے ورثا سے مذاکرات کئے ۔مذاکرات کے بعد
مقتول خلیل کے بھائی جلیل کی مدعیت میں تھانہ یوسف والا میں 16 نامعلوم سی
ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر
لیاگیا۔
سی
ٹی ڈی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ
جاری کرنے کے بعد لاشیں بھی ورثاکے حوالے کردی گئیں، رپورٹ کے مطابق جاں
بحق ہونے والی 13 سالہ بچی اریبہ کو 6 گولیاں لگی جبکہ کار ڈرائیور ذیشان
کو 10، زخمی بچوں کی والدہ نبیلہ بی بی کو 4 اور خلیل کو 13 گولیاں
لگیں۔لاشیں ملنے کے بعد لواحقین نے مقدمہ کے اندراج کیلئے جی ٹی روڈ پر رات
گئے ہی دھرنا دیدیا تھا۔سی ٹی ڈی کی کارروائی میں زخمی ہونے والے تینوں
بچوں کو لاہور منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی گئی، زخمی عمیر کو
سیدھی ٹانگ میں گولی لگی تھی جبکہ منیبہ کا ہاتھ گاڑی کا شیشہ ٹوٹنے کی
وجہ سے زخمی ہوا تھا۔چارسالہ ہودیہ کو گھر بھیج دیا گیا ۔یاد رہے کہ گزشتہ
روز ساہیوال میں ٹول پلازہ کے نزدیک سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلے میں 4 افراد
جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہوئے تھے۔ جاں بحق افراد میں خاتون نبیلہ، ان کا
شوہر محمد خلیل اور ان کی 13 سالہ بیٹی اریبہ شامل ہے جبکہ بیٹا اور 2
بیٹیاں زخمی ہوئیں۔ جاں بحق افراد میں شامل چوتھا شخص ذیشان ان کا ہمسایہ
تھا۔ یہ پورا خاندان لاہور کا رہائشی تھا جو شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے
بورے والا جارہا تھاکہ سی ٹی ڈی پنجاب کی بھینٹ چڑھ گیا۔سی ٹی ڈی نے
ابتدائی بیان میں مرنے والے تمام افراد کو کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ
(داعش) کا دہشت گرد قرار دیااورحقیقت کھلنے پر موقف بدل کر چاروںمقتول
افراد کو اغوا کار قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گاڑی کو رکنے کا اشارہ
کیا تو کار سوار افراد نے فائرنگ کردی جس پر پولیس کی جوابی فائرنگ میں
چاروں افرادمارے گئے۔صورت حال اس وقت یکسر تبدیل ہوگئی جب لاشوں اور زخمی
بچوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخمی بچوں نے قلمبند کرواتے
ہوئے بتایا کہ جاں بحق افراد ان کے والد، والدہ، بڑی بہن اور والد کے دوست
ہیں۔ راستے میں پولیس نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی ،گاڑی رکنے پران کے پاپا
نے پولیس اہلکاروں سے بہت کہا کہ ہماری تلاشی لے لو، ہمارے پاس جتنے پیسے
ہیں وہ سب لے لو،ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے لیکن پولیس والوں نے کچھ نہیں
سنا اور ہمارے سامنے سب کو گولیاں ماردیں۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان
نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حقائق کو سامنے لانے کے لیے واقعے کی مفصل اور
شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے رات گئے ساہیوال اسپتال کا
دورہ کرکے زخمی بچوں کی عیادت کی اور واقعہ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کی
تشکیل کا حکم دیتے ہوئے بچوں کی سرکاری کفالت کا اعلان کیا اورکہا کہ
تحقیقات میں سی ٹی ڈی کے اہلکار قصور وار ثابت ہوئے تو مرنے والوں کے
لواحقین کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا جبکہ قصور وار اہلکاروں کے خلاف سخت
قانونی کارروائی کی جائے گی۔