وزیر
قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہاہے کہ ساہیوال آپریشن 100فیصد درست جبکہ
خلیل فیملی بے گنا ہ تھی ، خلیل خاندان کے قتل کے ذمہ دار افسران کو عہدوں
سے ہٹا دیا گیاہے اورواقعہ میں ملوث 5 اہلکاروں کے خلاف قتل کی دفعات کے
تحت انسداد دہشت گردی عدالت میں مقدمہ چلانے کاحکم دیدیا گیا ہے،ذیشان کے
معاملے میں جے آئی ٹی نے مہلت مانگی ہے ، کل ان کیمرہ سیشن میں میڈیا
کوحقائق سے متعلق آگا ہ کیا جائے گا۔پنجاب حکومت نے سانحہ ساہیوال میں ملوث
سی ٹی ڈی ڈی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے آئی جی کو بچا
لیا ۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ
ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پنجاب، ڈی آئی جی
سی ٹی ڈی، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کو فوری طور
پر معطل کرکے انہیں وفاق کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں
نے کہا کہ قتل میں ملوث پانچ سی ٹی ڈی اہلکاروں کا چالان جلد انسداد دہشت
گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔کل میڈیا کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی
جس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ سمیت دیگر تمام حقائق سامنے لائیں جائیں گے۔
قبل
ازیں سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کی ابتدائی
رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردی گئی۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں سی ٹی ڈی کے 6
اہلکاروں کو براہ رست ملوث ہونے کا ذمے دار جبکہ 4 اہلکاروں کوجرم میں
معاونت کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے۔جے آئی ٹی سربراہ اعجاز شاہ کے مطابق 6
اہلکار ہی زیر حراست ہیں۔ انہوں نے دیگر 10 اہلکاروں کے بارے میں کچھ نہیں
بتایا۔