شاہی باغ میں قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد میں بنائی گئی یادرگار
انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یادگار پر لگائی
گئی ٹائلیں ٹوٹنے لگیں جبکہ شاہی باغ پارک بھی حکومتی عدم توجہی کے باعث
کھنڈرات کی شکل اختیار کرنے لگا ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے 19 اکتوبر 1936ء کو پشاور آمد موقع پر شاہی باغ
میں عوام سے خطاب کیا تھا اور ان کی یاد میں شاہی باغ کے مقام پر یادگار
بنائی گئی تھی۔ یہ یادگار بھی حکمرانوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوچکی ہے۔
یادگار پر صفائی کا کوئی بندوبست نہیں اور یادگار پر لگائی گئی ٹائلیں
ٹوٹنے لگی ہیں جبکہ فوارہ بھی خراب ہوچکا ہے جہاں اب گندگی کے سوا کچھ نہیں
یہا ں پر آنے والے صفائی نہ ہونے کے باعث زیادہ دیر تک ٹکتے بھی نہیں ہیں۔
سات کروڑ روپے لاگت سے تعمیر ہونے والی یادگار پر آٹھ سالوں کے دوران کوئی
توجہ نہیں دی گئی اور شاہی باغ پارک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا جہاں بیٹھنے
کیلئے بنائے گئے بینچ ٹوٹ چکے اور فوارے خراب ہوگئے ہیں۔
ایک نوجوان محمد شان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کی یادگار کی ٹائلیں خراب
ہوچکی ہیں، اس پر ہر کسی نے لکھائی کی ہوئی ہے، یہاں کا نظام درہم برہم ہے،
حکومت صفائی ستھرائی کا کام کرے کیونکہ یہ حکومت کا کام ہے۔
ایک اور نوجوان جنیدآفریدی کا کہنا تھا کہ میں یہاں سیر کیلئے آیا ہوں،
قائد اعظم یاد گار پر کوئی توجہ نہیں دے رہا، اس کی حالت بہت خراب ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ اس جگہ کو خوبصورت بنائے۔