اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کا
کہنا تھا کہ افغان امن عمل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان اور قطر امریکا
طالبان مذاکرات میں سپورٹ فراہم کررہے ہیں۔
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے صدرٹرمپ کے ساتھ
وزیراعظم کی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم ابھی تک تاریخ کا کوئی
تعین نہیں ہوا، ایسی ملاقاتوں کیلئے بہت زیادہ تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ بھارت اگر گولی سے بات کرے گا تو گولی
سے جواب دیں گے، بھارت امن کی بات کرے گا تو امن سے بات کریں گے، پاک فوج
بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دے رہی ہے۔
ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں
اور بھارت کی جانب سے پیلیٹ گنز کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے، اقوام متحدہ
کے سیکرٹری جنرل نے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کی، پاکستان نے
21 جنوری کو بھارت کو کرتار پور راہداری منصوبے کا مسودہ اور پلان بھیجا
اور ہم نے بھارت کو معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے وفد بھیجنے کی درخواست
کی تاہم بھارت نے جواب میں بچکانہ انداز میں پاکستانی وفد دہلی بھیجنے
کیلئے دو تاریخوں کا تعین کردیا، اب پاکستان کا جواب انتہائی سنجیدہ ہوگا
جو کچھ دنوں میں دیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود قیدیوں کے
تبادلے کیلیے معاہدے کی پیشکش کی تھی، پاکستان نے صرف جرمانہ کی وجہ سے
جیلوں میں موجود افراد کی رہائی کیلیے بات کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ بھارت اگر گولی سے بات کرے گا تو گولی
سے جواب دیں گے، بھارت امن کی بات کرے گا تو امن سے بات کریں گے