سینیٹر
رحمان ملک کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا پارلیمنٹ ہاؤس
میں خصوصی اجلاس ہوا۔اجلاس میں سانحہ ساہیوال کی مذمت کی گئی ہے اور فاتحہ
خوانی کی گئی۔ اجلاس میں سینیٹر اعظم خان سواتی، سینیٹر وسیم شہزاد، سینیٹر
کلثوم پروین اور سینیٹر اسد جونیجو شریک ہیں۔
سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سانحہ ساہیوال دردناک واقعہ ہے، جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ سینیٹ
ایوان سانحہ ساہیوال کی انکوائری کی ذمہ داری قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو
سونپی ہے۔سانحہ ساہیوال کی ذمہ داروں کا تعین کرنا اور بچوں کی کفالت کی
ذمہ داری کا تعین کرنا ہے۔
رحمان ملک کا مزید کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹی
برائے داخلہ نے سانحہ ساہیوال پر وزارت داخلہ و حکومت پنجاب سے 42سوالات
پوچھے تھے۔حکومت پنجاب نے سینیٹر رحمان ملک کو سانحہ ساہیوال پر کچھ سوالات
کے تحریری جوابات پیش کئے۔کچھ سوالات وقت طلب ہیں، آئی جی پنجاب سارے
سوالات کے جوابات کمیٹی کو جمع کرے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ سانحہ ساہیوال کے
پیچھے کوئی سازش تو کار فرما نہیں ہے۔کہیں سی ٹی ڈی کا کوئی اہلکار کسی
کیلئے یا ذاتی دشمنی کیلئے استعمال تو نہیں ہوا ہے۔
رحمان
ملک کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی کو کسی کے مارنے کی لائسنس نہیں ملا ہے
۔کسی انفرادی عمل کیوجہ سے ہمیں کسی بھی قومی ادارے کو مورد الزام نہیں
ٹہرا سکتے ہیں۔دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہمارے اداروں کی قربانیاں قابل
ستائش ہیں۔
ہوم سیکریٹری پنجاب کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ذیشان دہشت گرد تھا۔سی ٹی ڈی کا ٹارگٹ ذیشان تھا۔
اس موقع پر سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگر ذیشان دہشت گرد ہے تو اسکے شواہد کمیٹی کو پیش کئے جائیں۔