شہر قائد میں ایک بار پھر بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث شہر کا 80
فیصد علاقہ بجلی سے محروم ہوگیا ، کےالیکٹرک ترجمان کا کہنا ہے کہ نیشنل
گرڈ میں ٹرپنگ سے بیشترشہروں میں ٹرپنگ آئی ہے، بجلی کی جزوی بحالی کاعمل
شروع کیاجاچکاہے۔
جامشورو سےبجلی کی سپلائی معطل ہونےسےکےالیکٹرک کاسسٹم
بیٹھ گیا، جس کے باعث شہر کے 80 فیصد سے زائد علاقے میں بجلی کی فراہمی
معطل ہوگئی۔
شہر بھر کے تمام انڈسٹریل ایریا بجلی سےمحروم ہے جبکہ لانڈھی، کورنگی،
بلدیہ ، ڈیفنس، کلفٹن، لیاقت آباد، ملیر، شاہ فیصل،ناظم آباد،گلشن
اقبال،گلستان جوہر،گلشن معمار، گڈاپ، نارتھ کراچی، نیوکراچی اور صدر سمیت
بیشترعلاقوں میں بجلی غائب رہی۔
کےالیکٹرک ترجمان کا کہنا ہے کہ نیشنل گرڈمیں ٹرپنگ سے بیشترشہروں میں
ٹرپنگ آئی، آئی لینڈموڈمیں جانےسےنیٹ ورک محفوظ ہے، بجلی کی جزوی بحالی کا
عمل شروع کیا جاچکا ہے۔
بجلی
کی بندش سے لوگ پریشانی کا سامنا کررہے ہیں۔ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے
نتیجے میں پانی کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔بچوں کو تعلیم کے حصول
میں دقت پیش آرہی ہیں۔
ایک شہری محمد احسان کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں میں کے الیکٹرک کی کمزوری
سامنے آئی ہے، بہت سارے مقامات پر بریک ڈاؤن ہوا ہے، کچھ مقامات ایسے ہیں
جہاں پوری پوری رات بجلی نہیں تھی، کاروباری علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی
چاہیے۔
ایک اور شہری شرافت سلہری کا کہنا تھا کہ باقاعدہ بجلی کے بل ادا کرنے کے
باوجود موسم سرما میں لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے میرا خیال ہے گرمیوں میں تو لوگ
مرہی جائیں گے۔