سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی
بینچ نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظرثانی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت
کے دوران قاری سلام کے وکیل نے لارجربینچ بنانے کی درخواست کی۔
وکیل غلام مصطفی ایڈوکیٹ نے کہا کہ معاملہ مسلم امہ کا ہے، عدالت مذہبی
اسکالرزکو بھی معاونت کے لئے طلب کرے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا
اسلام کہتا ہے کہ جرم ثابت نہ ہونے پرسزا دی جائے، عدالت نے فیصلہ صرف
شہادتوں پردیا ہے، کیا ایسی شہادتیں قابل اعتبار نہیں اور اگرعدالت نے
شہادتوں کاغلط جائزہ لیا تودرستگی کریں گے۔
وکیل غلام مصطفی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے کلمہ شہادت سے فیصلہ کروایا،
جسٹس ثاقب نثار نے کلمہ شہادت کا غلط ترجمہ کیا جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ
سابق چیف جسٹس اس وقت بینچ کا حصہ نہیں، وہ آپ کی بات کا جواب نہیں دیں گے
اورلارجر بینچ کاکیس بنا ہوا تو ضروربنے گا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے دلائل
سننے کے بعد نظر ثانی درخواست مسترد کردی، عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار
دیا کہ درخواست گزار ایک بھی وجہ نہیں بتا سکا جسکی بنیاد پرنظر ثانی کی
جاسکے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی آرمیں عوامی اجتماع کا کوئی ذکرنہیں
کیا گیا، ایف آئی آرعوامی اجتماع کے تین گھنٹے بعد درج ہوئی، کوئی اورکیس
ہوتا تو گواہان کیخلاف مقدمہ درج کرواتے، کوئی کہتا رہا اجتماع میں 100
لوگ تھے کسی نے کہا 2000 لوگ تھے، کیا ایسے گواہان کی شہادت پر کسی کو
پھانسی لگا دیں۔
آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام میں 2010 میں لاہور کی ماتحت عدالت نے
سزائے موت سنائی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے
خلاف اپیل خارج کردی تھی جس کے بعد ملزمہ نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر
کی تھی۔گزشتہ سال 31 اکتوبرکوسپریم کورٹ نے سزا کالعدم قراردے کرآسیہ بی بی کورہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا
کہ عدالت عظمیٰ نے نے آئین وقانون اور اپنے سابقہ فیصلے کے مطابق نظرثانی
کی درخواست مسترد کردی ہے اور ہمیں نوٹس تک کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کے بارے میں میرا خیال ہے
چونکہ سب علماء نے یہ کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اس کو قتل
کردیا جائے گا تو اس کو اس ملک سے جانا ہی چاہیے البتہ میرا وعدہ ہے کہ میں
اسی ملک میں مروں گا اور باقی جو لوگ ہیں جن کے ساتھ غلط مقدمات ہوئے ہیں
یا اقلیتی برادری کے لوگ ہیں جن کو عدالت میں میری مدد کی ضرورت ہوگی میں
ان کیلئے حاضر ہوں۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ریاست قانون کے مطابق اپنے
فرائض کی ادائیگی کی پابند ہے۔ جب تک اللہ نے زندگی لکھی ہوئی ہے ہم سلامت
رہیں گے اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔