Jan 29, 2019 09:41 pm
views : 472
Location : Sindh High Court
Karachi- lawyers Views about dismisses review petition against Aasia Bibi’s case
کراچی، آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کو مسترد کئے جانے پر وکلاء برادری کا ملے جلے رجحان کا اظہار
سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست
کو مسترد کئے جانے پر وکلاء برادری نے ملے جلے رجحان کا اظہار کیا ہے۔ کچھ
وکلاء کہتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ نے انصاف کے اصولوں کے عین مطابق فیصلہ دیا
ہے جبکہ کچھ چند وکلاء کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو نظرثانی کی درخواست کو
سننا چاہیے تھا کیونکہ اپیل تو ہر فیصلے کے خلاف معزز عدالت میں کی جاتی
ہے۔
فیصلے کے حوالے سے ہائی کورٹ کے وکیل محمد جوادایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ
قانون کے مطابق گناہ ثابت ہونے تک ملزم کو مجرم نہیں کہا جاسکتا۔ بلا شبہ
سپریم کورٹ نے قانون کے مطابق میرٹ پر فیصلہ دیا ہے۔
ایک اور خاتون وکیل روبینہ قادر کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ ہے
یقیناًعدالت عظمیٰ نے گراؤنڈ رئیلٹی دیکھنے کے بعد انصاف کے اصولوں کے
مطابق فیصلہ کیا ہوگا اور بلاشبہ عدالت کا فیصلہ ٹھیک ہے۔
عمر فاروق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کیس میں بنیادی طور پر سیاسی
پہلو نظر آتا ہے، اپیل تو ہر فیصلے کے خلاف معزز عدالت میں کی جاتی ہے۔
نظرثانی کے حق کو عدالت نے نہیں مانا، معزز عدالت کو چاہیے تھا کہ نظرثانی
درخواست کو سنے اور اس کے بعد فیصلہ دے۔ اس کیس میں قانونی پیچیدگیاں بھی
ہیں جن کو سن کر مزید بحث کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کی کارروائی میں کام
آسکے۔