کچھ عرصہ قبل لوگ اپنے سامان کی نقل وحمل اور خطوط سمیت دیگر دستاویزات کی
برق رفتار ترسیل کیلئے فوراً سے پیشتر خدمات فراہم کرنے والی بہتر سے بہتر
کورئیر سروسز کا انتخاب کیا کرتے تھے تاہم اب وہ وقت نہیں رہا ، زمانے بدل
گئے اور پاکستان پوسٹ نے اپنی سروس کو اب دیگر کورئیر سروسز کے مقابلے میں
بہت ہی بہتر کرلیا ہے، یہی وجہ ہے کہ جرمن چانسلر مارک کوبلر بھی پاکستان
پوسٹ کی خدمات کے معترف ہوگئے ۔
مارک کوبلر کی جانب سے اپنی فیملی کیلئے اسلام آباد سے پاکستان پوسٹ سروس
کی خدمات حاصل کرکے محض 7 یوم میں برلن میں اپنے گھر تحائف کی ترسیل کو
یقینی بنائے جانے کے بعد انتہائی مسرت کا اظہار کیا گیا ۔انہوں نے پاکستان
پوسٹ کی بہترین خدمات کو سراہتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس
کی کارکردگی کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔
پوسٹ آفس کے سینئر پوسٹ ماسٹر اشرف علی کے مطابق نئی حکومت اور وزیر
مواصلات مراد سعید کے آنے کے بعد پاکستان پوسٹ کی کارکردگی بہت ہی
بہترہوگئی ہے کیونکہ انہوں نے انتہائی قلیل وقت میں بہت توانائی کام کئے
ہیں اور اب برق رفتاری کے باعث پاکستان پوسٹ کے کام میں اضافہ بھی ہوگیا
ہے۔
پاکستان پوسٹ سے اپنے سامان کی ترسیل کرنے والے ایک شہری ندیم انور کا کہنا
تھا کہ ہم ہیلمٹ کی پورے پاکستان میں سپلائی کرتے ہیں، چار پانچ سال سے ہم
کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل ہم دیگر کورئیر سروس کے ساتھ کام
کیا کرتے تھے لیکن جب سے پاکستان پوسٹ کی بہترین سروس کا سنا ہم نے اپنے
قومی ادارے کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا ہے ان کے نرخ دیگر کورئیر سروسز کے
مقابلے میں بہت ہی کم ہیں اور یہ بحفاظت اور احتیاط کے ساتھ سامان کی
ترسیل کو یقینی بناتے ہیں۔ پاکستان پوسٹ کی سروس اور معیار بہت بہتر ہوگیا
ہے۔ دو سے تین دن میں ہمارا سامان منتقل ہوجاتا ہے۔ میں دیگر لوگوں کو بھی
یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان پوسٹ ہمارا قومی ادارہ ہے، جی پی او کے ذریعے
کام کریں ، ہم جی پی او کی کارکردگی سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔
پاکستان پوسٹ کے برانچ انچارج محمد اشفاق سعدی کا کہنا تھا کہ پاکستان پوسٹ
بہت پرانی سروس ہے، یہ ادارہ بالکل اسی طرح کام کرتا ہے جیسے تمام ممالک
پوسٹ کے حوالے سے کام کرتے ہیں، یہ دراصل یونیورسل پوسٹل یونی کے تحت چلتا
ہے، ہماری سروس نئی حکومت آنے کے بعد بہتر ہوئی ہے اور اب اگر یہ کہا جائے
کہ پاکستان پوسٹ دنیا کے بہترین اداروں میں سے ایک ادارہ ہے تو بے جا نہ
ہوگا۔