Jan 29, 2019 10:06 pm
views : 595
Location : Dara Adam Khail
Dara Adam Khail- Asian Largest Weapons Market faces Problem
درہ آدم خیل، دستی اسلحے کی صنعت مشکلات کا شکار
درہ آدم خیل اسلحہ کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہے۔ درہ آدم خیل ایشیاء
کی سب سے بڑی اسلحہ مارکیٹ بھی ہے جہاں پر ہاتھوں کی مدد سے اسلحہ بنایا
جاتا ہے تاہم 2005ء میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی وجہ سے درہ آدم خیل
کے اسلحے کی صنعت کو کافی نقصان پہنچا۔ وہاں کے مکین آج بھی حکومت کی جانب
سے سہولتیں میسر آنے کے منتظر ہیں۔
درہ آدم خیل پشاور اور کوہاٹ کے درمیان وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ
تھا لیکن صوبے میں انضمام کے بعد لوگوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ یہ
کوہاٹ کے سرحدی علاقے میں شامل ہے اس لئے درہ آدم خیل کو ایف آر کوہاٹ کہا
جاتا ہے۔
اپنے ہاتھوں کی مدد سے اسلحہ بنانے والا کاریگر کامران خان کا کہنا تھا کہ
آپریشن کے بعد سے حکومت نے ہمارے لئے ایک علیحدہ جگہ کا انتخاب کیا تھا اگر
ہم وہاں کوچ کرنے کا سوچیں تو یہ ممکن نہیں کیونکہ ہم غریب لوگ ہیں ہم
یومیہ دہاڑی پیشہ ہیں پانچ چھ سو روپے ہمیں ٹھیکے کے حساب سے کام کرنے پر
ملتے ہیں۔ اس دہاڑی پر ہم گھر کا خرچہ بہت مشکل سے پورا کرتے ہیں ، کام
کرنے کے حوالے سے جس جگہ کا حکومت نے انتخاب کیا ہے وہاں پر جگہ بہت مہنگی
ہے جو کہ ہماری دسترس سے باہر ہے۔
بندوق بنانے والے کارخانے کے مالک حاجی منور شاہ کا کہنا تھا کہ ہم حکومت
سے اپیل کرتے ہیں کہ 30 بور ، سیون ایم ایم اے کے لائسنس اور پرمٹ پر عائد
پابندی کو فوری طور پر ہٹایا جائے کیونکہ جب لوگوں کے پاس لائسنس والا
بندوق ہوگا تو وہاں پر ڈاکہ زنی اور جرم کی وارداتوں میں کمی آئے گی۔