مہنگائی، بیروزگاری، غربت و دیگر مسائل کی وجہ سے آج عوام شدید
پریشانی سے دوچار ہیں، کئی گھرانے فاقہ کشی سے بچنے کیلیے’’بھیک‘‘
مانگنے پر مجبور ہو گئے ہیں تاہم معاشرے میں آج بھی ایسے افراد موجود ہیں
جو شدید مفلسی کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں بلکہ محنت
کرکے دو وقت کی روٹی کمانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
لیاقت آبادکی ادریسہ خاتون کی عمراس وقت 70سال سے زائد ہوگئی ہے مگر وہ
کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے اور بھیک مانگنے کے بجائے روزانہ 10 سے 12گھنٹے
تک محنت کرتی ہیں، زندگی کی سب سے قیمتی چیز’’واکر‘‘ہے جو ان کے
روزگار کمانے کاذریعہ بھی ہے ،بچوں کوگھمانے والے واکر میں ادریسہ خاتون
گارمنٹ سے متعلق اشیا فروخت کر کے اپنا گزر بسر کرتی ہیں۔
خاتون نے بتایا کہ میرا نام ادریسہ خاتون ہے اورمیرے والد کا
آبائی تعلق انڈیا اور والدہ کالاہور سے تھا ہم دو بھائی اور میں اکلوتی
بہن ہوں، والدہ کا انتقال اس وقت ہوا جب میں پیدا ہوئی جس کے بعد والد ہم
تینوں کو لاہور سے کراچی لے آئے اور سندھی ہوٹل کے قریب لیاقت آباد میں
گھر لے کر رہائش اختیار کر لی۔
ادریسہ خاتون نے مزید بتایا کہ 15سال قبل بڑے بھائی کا انتقال ہواتو ہمارا
خاندان تقسیم ہوگیا اوربھائی کے اہلخانہ ہم سے الگ ہوگئے جبکہ میں اور
چھوٹابھائی ہم دونوں لیاقت آباد کے علاقے ایف سی ایریا میں شفٹ ہوگئے اور
کرائے کے مکان پر رہنے لگےجہاں میں نے اور چھوٹے بھائی نے 1200روپے کا واکر
خریدکر اس میں چھوٹے بچوں کے سلے ہوئے سوٹ، مردوں کے ٹراوئزر اور گارمنٹ
کا دیگر سامان فروخت کرنا شروع کر دیا، گزشتہ برس فروری کی 11 تاریخ کو
چھوٹے بھائی کا بھی انتقال ہو گیا جس کے کفن دفن کیلیے میرے پاس پیسے نہیں
تھے۔
اس لیے بھائی کی میت تدفین کیلیے ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کر دی، محلے
والوں کو پتہ لگا تو لوگوں نے بہت کہا کہ ہم کو بتادیا ہوتا ہم تدفین
کرادیتے مگر میں نے کہا کہ چندہ کرکے میں تدفین کرنا نہیں چاہتی تھی، بھائی
کی وفات کے بعد اب معلوم ہوا کہ زندگی کیا ہوتی ہے، میرا سائبان ہی چلا
گیا۔
ادریسہ خاتون نے بتایا کہ بھائی کے انتقال کے بعد محلے والوں اور دیگر
لوگوں نے میری مدد کی کوشش کی لیکن میں نے منع کردیا ۔جب تک میرے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں محنت کرتی رہوں گی۔ کسی کے مدد مانگنے کے بجائے اگر انسان
محنت کرے تو اللہ اس کو روزی دیتا ہے ، اگر ہاتھ پاؤں سلامت ہوں تو بھیک
مانگنا بے غیرتی ہے ،آج کئی لوگ محنت کے بجائے بھیک مانگتے ہیں تو مجھے
افسوس ہوتا ہے ، بس ایک پیغام ہے لوگوں کے لیےوہ محنت اور حلال کو
اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں اللہ تعالیٰ خود ان کو ترقی دے گا ۔
ادریسہ خاتون کے حوالے سے ایک شہری چاند پوری کا کہنا تھا کہ یہ ضعیف خاتون
اتنی عمر کی ہو کر بھی محنت کررہی ہیں۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ حکومت کو
چاہیے کہ ان کیلئے کوئی وظیفہ مقرر کرے تاکہ انہیں مہینے کے آخر میں کچھ
رقم مل سکے ، یہ بہت ضروری ہے۔ یہ بھی ایک صدقہ جاریہ ہوتا ہے۔ ان کے بارے
میں سوچنا ہوگا کیونکہ آج ہم ان کیلئے سوچیں گے تو کل ہمارے لئے بھی کوئی
سوچے گا۔
ایک خاتون تجویز شاہانہ کہتی ہیں کہ ادریسہ بی بی کے ساتھ ان کے بھائی بھی
ہوا کرتے تھے ، یہ محنت کرتی ہیں کسی سے بھیک نہیں مانگتی۔ میں اکثر ان سے
دعائیں لینے آتی ہوں۔