گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ مالی
خسارہ کم جبکہ افراط زر کی شرح بڑھ رہی ہے، جب آئی ایم ایف پروگرام میں
جائیں گے تو کچھ ان کی اور کچھ اپنی منوائیں گے۔
گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ شرح سود میں پچیس
بیسز پوائنٹ کا اضافہ جبکہ بنیادی شرح دس اعشاریہ دو پانچ فیصد ہو گئی۔ گزشتہ سال جولائی تا نومبر میں بڑے صعنتی یونٹس میں 9۔0 فیصد
اضافہ ہوا، بڑی فصلوں کی پیداوارمیں کمی آئی ہے۔ گزشتہ 6 ماہ میں سٹیٹ بینک
سے حکومتی اور نجی شعبے کے لیے بھی قرضوں میں اضافہ ہوا۔
گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو چیلنجز درپیش
ہیں۔ انٹرسٹ ریٹ 10 سے بڑھ کر 25۔10 فیصد ہو گیا ہے۔ مالی خسارہ کم ہوا ہے
جبکہ افراط زر کی شرح بڑھ رہی ہے۔ یکم فروری سے انٹرسٹ ریٹ میں 25 بیسز
پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ
(آئی ایم ایف) پروگرام میں جب جائیں گے تب کچھ ان کی اور کچھ اپنی منوائیں
گے۔