چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے کیسے برداشت کرلیا کہ کوئی اور ادارہ عوام پر ٹیکس لگائے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی پریس کلب کا دورہ کیا جہاں
انہوں نے نئی گورننگ باڈی اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کی، اس موقع پر
بلاول بھٹو کو پریس کلب کی اعزازی رکنیت بھی دی گئی۔
پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی پریس کلب سمیت ملک
بھر کے پریس کلبز نے ہمیشہ سے جمہوریت کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
ہے اور جمہوریت کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کیا ہے،کوشش کروں گا کہ ملک بھر کے پریس کلبوں کو سیاست کا مرکز
بناؤں، ہم نے آزادی اظہار رائے کے لیے جدوجہد کرنی ہے اور آزادی اظہار
رائے پر ہونے والے حملوں کا دفاع کرنا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پی پی پی نے 18ہویں ترمیم کی صورت میں 1973 کا آئین
بحال کیا، حکومت اور دیگر قوتوں کی طرف سے جمہوریت، انسانی حقوق اور
18ہویں ترمیم پر حملے ہورہے ہیں، پی پی پی یہ حملے برداشت نہیں کرے گی اور
بھرپور سیاسی جدوجہد کے لیے تیار ہے، 18ہویں ترمیم کو کمزور کرنے
والےعدالتی فیصلوں کے خلاف نظر ثانی کے لیے جائیں گے، اگر اس کو کمزور کرنے
کی کوشش کی گئی تو ملک کے کونے کونے میں جاؤں گا اور لانگ مارچ کے لیے
تیار ہوں لیکن 18ہویں ترمیم اور آئین پر آنچ نہیں آنے دوں گا۔