کوئٹہ، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ٹرک آرٹ سے وابستہ نوجوان کے ماڈل دیدنی
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 1920میں
نجی بس کمپنی نے بسوں کو سجا کر مسافروں کی توجہ حاصل کرنے کا جو سلسلہ
شروع کیا تھا وہ آج ٹرک آرٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔کوئٹہ میں ٹرک آرٹ سے وابستہ نوجوان ایسے ماڈل بنا رہا ہے جسے دیکھ کر
آنکھیں حیران ہو جاتی ہیں ۔
کوئٹہ کا رہائشی الیکٹریکل انجینئر خرم چانڈیو اپنے اس آرٹ کے ذریعے ٹرکوں اور
کوچز کے ایسے ماڈل بناتا ہے کہ وہ حقیقت سے بھرپور مماثلت رکھتے ہیں ۔
خرم کے کمرے میں موجود اس چھوٹے سے بس ٹرک اڈے میں کوئٹہ کراچی جانے والی
کوچز کے ساتھ ساتھ ٹرکوں کے ماڈلز بھی موجود ہیں۔
خرم نے بتایا کہ
ماڈلز کی تیاری میں 20سے 25دن درکار ہوتے ہیں۔
خرم کے بنائے ماڈلز لائٹس سیٹس کے علاوہ ٹرکوں پر کی جانے والی پینٹنگ
ٹرک آرٹ کے منفرد ہنر کی عکاسی کرتی ہے۔
خرم کے والد بیٹے کے ہنر پر نازاں
تو ہیں مگر حکومتی سرپرستی کے فقدان سے نالاں بھی ہیں ۔
کوئٹہ کا یہ باصلاحیت نوجوان پر امید ہے کہ اسکے ہنر اور محنت کو عالمی سطح تک پذیرائی دلوانے میں اہل اختیار اسکی مدد کریں گے۔