لاہور، آف شور کمپنی اسکینڈل، نیب نے عبدالعلیم خان کو حراست میں لے لیا
آف شور کمپنی اسکینڈل میں نیب نے سینئر وزیر عبدالعلیم
خان کو حراست میں لے لیا، انہیں کل احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا اور
15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی، عبد العلیم خان کی گرفتاری سے
قبل سپیکر پنجاب اسمبلی کو اعتماد میں لیا گیا۔
عبدالعلیم خان کے نام مبینہ آف شور کمپنیوں میں آر اینڈ آر انٹرنیشنل، ایف
زیڈ سی، ہیکسم انویسٹمنٹ اوورسیز لمیٹڈ شامل ہیں۔ عبدالعیم خان سے 5 آف شور
کمپنیوں سے متعلق سوال کیے گئے، وہ 18 میں سے 3 سوالوں کےجواب دے سکے۔
ڈی جی نیب سلیم شہزاد کا کہنا ہے علیم خان کو آف شور کمپنی سکینڈل میں
گرفتار کیا گیا، ان پر آمدن سے زائد اثاثوں کا بھی الزام ہے، انہیں ذاتی
حیثیت میں طلب کیا گیا تھا، ملزم پر پیسوں کی غیر قانونی منتقلی کا بھی
الزام ہے، علیم خان شواہد کے حوالے سے مطمئن نہ کرسکے، نیب قومی مفاد کو مد
نظر رکھ کر اقدامات کر رہا ہے۔
عبدالعلیم خان نے سینیر وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔عبدالعلیم خان کا
کہنا ہے کہ مقدمے میں گرفتاری کے باعث سینئر وزیر کے عہدے سے مستعفی ہو رہا
ہوں، اپنے خلاف کیس اور گرفتاری کا عدالت میں سامنا کروں گا، عدالت سے
امید ہے انصاف ملے گا۔
وزیراعظم کو عبدالعلیم خان کی گرفتاری سے متعلق آگاہ کر دیا گیا۔ عمران
خان نے عبدالعلیم خان کے وزارت سے فوری استعفیٰ کے اقدام کو سراہا اور وزرا
کو معاملے پر غیر ضروری بیان بازی سے اجتناب کرنے کی ہدایت کر دی۔ انہوں
نے کہا عبد العلیم خان کے معاملے میں قانون کے مطابق چلا جائے۔
ایک
شہری رضوان صدیقی کا کہنا تھا کہ سینئر وزیر کی گرفتاری اچھا اقدام
ہے۔اگر وہ بدعنوان ہے تو حکومت اور اداروں کو چاہئے کہ انہیں سزا دے۔ یہ
نہیں ہونا چاہئے کہ بکری چوری کرنے والوں کو دس دس سال کی سزا ہو اور اربوں
روپے کی چوری کرنے والوں کو تین دن میں چھوڑ دیا جائے۔
ایک
دکاندار محمد حنیف کا کہنا تھا کہ خالی گرفتاریاں نہیں ہونی چاہئے،
استعفوں سے کام نہیں چلے گا۔ بدعنوانوں کو سزا ہونی چاہئے تاکہ دوسروں
کیلئے عبرت کا باعث بنے اسی طرح پاکستان میں کرپشن ختم ہوگی۔
یاد رہے 6 ماہ بعد عبدالعلیم خان چوتھی بار نیب میں پیش ہوئے، عبدالعلیم
خان کی آخری پیشی 10 اگست 2018 کو ہوئی، نیب بیرون ملک آفشور کمپنیوں سے
متعلق تحقیقات کر رہا ہے، نیب نے عبدالعلیم خان کو آف شور کمپنی سکینڈل کی
پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا تھا۔