Feb 06, 2019 04:43 pm
views : 495
Location : Supreme Court Of Pakistan
Islamabad- Faizabad sit-in, Elements propagating hate, extremism must be prosecuted, Supreme Court
اسلام آباد، سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سنادیا
div align="right"> سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ جاری کردیا۔
سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سنادیا ہے۔ 43 صفحات پر مشتمل
فیصلہ سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا جس میں انہوں نے
قائداعظم کے تین فرمان کا بھی تذکرہ کیا۔ قائد اعظم نے کہا کہ میں مسلمانوں
کو خبردار کرتا ہوں کہ اپنے غصے پر قابو رکھیں، رد عمل سے ریاست کو خطرات
میں نہیں ڈالنا چاہیے، پاکستان میں قانون کی عملداری ضروری ہے ورنہ لا
قانونیت ملک کی بنیادیں ہلا دے گی۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں 12 مئی واقعے، 2014 میں پی ٹی آئی اور عوامی
تحریک کے دھرنے اور فیض آباد دھرنا تینوں واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ
12 مئی 2007 کے ذمہ داران کو کوئی سزا نہیں دی گئی اس عمل سے تحریک لبیک
کو شہ ملی۔
فیصلے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو نفرت، انتہا پسندی، دہشت گردی پھیلانے
والوں کی نگرانی کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا کہ 12 مئی 2007 کے واقعہ نے
تشدد کو ہوا دی، اس دن کراچی میں قتل عام کے ذمہ دار اعلی حکومتی شخصیات
تھیں، سڑکیں بلاک کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ضروری
ہے۔
فیصلے کے مطابق سیاسی جماعت بنانا اوراحتجاج آئینی حق ہے، مگر احتجاج کے حق
سے دوسرے کے بنیادی حقوق متاثرنہیں ہونے چاہیے، ہرسیاسی جماعت فنڈنگ کے
ذرائع بتانے کی پابند ہے اور الیکشن کمیشن قانون کے خلاف ورزی کرنے والی
سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی کرے، آئین میں احتجاج کا حق نہیں بلکہ
جمہوریت میں احتجاج کا حق ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ کی منظوری کے دوران ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی
پرتحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ نے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دیا تھا، دھرنے
کے خاتمے کے لئے عدالت نے حکم بھی جاری کیا تھا تاہم طاقت کے استعمال
پرکئی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تھا اورملک بھرمیں دھرنے دیئے گئے۔