صوبہ سندھ کے علاقے خیرپور میں کاری قرار دے کر قتل کی جانے والی رمشاء کا
خاندان انصاف کا منتظر ہے۔ کاری قرار دی جانے والی رمشاء کے قتل کی خبر
جنگل کی آگ کی طرح پھیلی تو ارباب اختیار بھی حرکت میں آگئے اور رمشاء کے
قتل میں ملوث ملزم ذوالفقار وسان کی گرفتاری عمل میں آگئی۔
پی ٹی آئی کی خواتین ارکان اسمبلی کا ایک وفد مقتول رمشاء وسان کی والدہ سے
ملاقات کیلئے ان کے گھر پہنچا۔ مقتول رمشاء کی والدہ سے ملاقات کے دوران
پی ٹی آئی خواتین ارکان اسمبلی نے یقین دہانی کروائی کہ پی ٹی آئی انصاف
کیلئے مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے۔ سندھ کی بیٹی کا کیس دبنے نہیں دیں گے۔
مقتول رمشاء کی والدہ کا کہنا تھا کہ جو قاتل گرفتار ہوئے ہیں ان قاتلوں سے جان کا خطرہ ہے۔
پی ٹی آئی کی رکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو کا کہنا تھا کہ رمشاء کاری نہیں ہے
اس الفاظ کا استعمال بند کیا جائے، صرف ذوالفقار وسان کی گرفتاری نہیں
چاہیے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ پی ٹی آئی نے قاتلوں کی گرفتاری
کیلئے اسمبلی میں بھی آواز اٹھائی۔ ذوالفقار وسان یہاں کا بدمعاش ہے جس کی
وجہ سے طالبات نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا۔ عمران خان کی حکومت میں ظلم
نہیں ہونے دیں گے۔ رمشاء وسان کو انصاف دلانے کیلئے ہر فورم پر جائیں گے۔
واقعے کا کیس اے ٹی سی کورٹ میں چلایا جائے۔رمشاء وسان واقعے میں پولیس
اپنا کردار ادا کرے۔