Feb 06, 2019 08:50 pm
views : 491
Location : Different Areas
Karachi- Pakistan's Media Industry in Crisis, Countrywide Journalist protest
کراچی، پاکستانی میڈیا انڈسٹری بحرانی کیفیت سے دوچار
پاکستانی میڈیا ہاؤسز بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں، میڈیا ہاؤسز سے صحافیوں
کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا۔ریاست کے چوتھے ستون صحافت سے
وابستہ قلم کار آج بے یقینی کی صورتحال میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔ میڈیا
ہاؤسز سے صحافیوں کی جبری برطرفیوں کے خلاف ملک بھر میں صحافی برادری کی
جانب سے کیا جانے والا احتجاج آج بھی کئی روز سے جاری ہے تاہم ارباب اختیار
کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ صحافی اپنی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے
خلاف صدا بلند کررہے ہیں تاہم ان کی آواز کسی کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) گروپ کے صدر فہیم صدیقی کہتے ہیں
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد صورتحال خراب ہورہی ہے۔ پالیسیوں
میں تبدیلی لائی جائے۔ آج ہم یہاں میڈیا ہاؤسز کے حق کی آواز بلند کرنے
کیلئے موجود ہیں اور انشاء اللہ ہماری جدوجہد کے نتیجے میں یہ مسئلہ حل
ہوگا۔
کراچی پریس کلب کے صدرامتیاز خان فاران کا کہنا ہے میں سمجھتا ہوں کہ
بحرانی کیفیت کے اصل ذمہ دار سابق چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعظم عمران
خان اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ہیں کیونکہ بلاشبہ جو اقدامات
انہوں نے اٹھائے ہیں وہ یقیناًً نیک نیتی پر مبنی ہیں تاہم ان اقدامات کو
مستقل مزاجی کے ساتھ نہیں اٹھایا گیا جس کی وجہ سے ایسا ماحول اور میڈیا
انڈسٹری میں بے یقینی کی کیفیت آگئی اور مالکان نے بڑے پیمانے پر چھانٹیاں
شروع کردی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مالکان تو دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں لیکن صحافی کسی
کے دباؤ میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ حکومت چاہے تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ سابق صدر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں بھی میڈیا پر
اسی طرح کی ضرب لگائی گئی تھی جس کی وجہ سے صحافیوں کو کافی وقت روزی کمانے
میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔