عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر
غلام احمد بلور کا کہنا ہے کہ علیم خان کی گرفتاری دکھاوا ہے۔ علیم خان کی گرفتاری ہاتھی کے دانت کھانے
کے اور اور دکھانے کے اور کے مترادف ہے، علیم خان کی گرفتاری قوم کے ساتھ
مذاق ہے، ان کا بھی وہی ہوگا جو علیمہ خان کا ہوا۔
پشاورمیں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس میں غلام بلورکا مزید کہنا تھا کہ
موجودہ حکومت نے پاکستانی کرنسی کی اہمیت ختم کر دی،غریب آدمی کے منہ سے
نوالہ چھین لیا گیا، مہنگائی کا سونامی ملک و قوم کو تحفے میں دیا گیا ہے۔ حج کا خرچہ بڑھا کر غریب مسلمانوں پر ظلم کیا گیا، ریٹ کم
نہیں کیا جا سکتا تو ہمسایہ ملک کے برابر ہی کر دیا جائے، اسلام کے نام پر
بننے والے ملک میں حج مہنگا جبکہ سیکولر ممالک میں حج کے اخراجات کم ہے۔انہوں نے بی آر
ٹی منصوبے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کر دیا۔
غلام بلور کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے،
اٹھارویں ترمیم کو بھی نہ چھیڑا جائے، جو وزراء اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے
کی بات کرتے ہیں ان کو لگام دیں، ہمیں اپنے صوبے کی بجلی واپس کریں، صدارتی
نظام کی باتیں کی جا رہی ہیں، صدارتی نظام میں تو سب کچھ ایک صوبے کے پاس
چلا جائے گا۔ نقیب اللہ اور طاہر داوڑ کا نام لیا جاتا ہے
مگر ہارون بلور کا کہیں ذکر ہی نہیں ہوتا، اپنی پارٹی سے بھی گلہ ہے کہ وہ بھی
ہارون کا نام نہیں لیتے۔ ہارون
بلور کی تحقیقات کی طرف قدم نہیں بڑھایا گیا، ہارون بلور کو کیوں قتل کیا گیا،
ان کے قتل میں کس کس کا نام ہے بتایا جائے۔