کراچی میں 5 روزہ کثیرالملکی بحری مشقوں امن-2019 کا آغاز ہوگیا جس میں 46 ممالک حصہ لے رہے ہیں۔پاک بحریہ کے کمانڈر پاکستان فلیٹ وائس ایڈمرل امجد خان نیازی افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔اس دوران پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کا پیغام بھی پڑھ کر
سنایا گیا جس میں انہوں نے مشقوں میں حصہ لینے والے تمام ممالک کا شکریہ
ادا کیا اور کہا کہ جدید دور کا تقاضا یہ ہے کہ مل کر مقابلے کیے جائیں۔
اس موقع پر پاک بحریہ کے جوانوں نے مارچ پاسٹ کا مظاہرہ کیا جس میں 46 ممالک کے پرچم لہرائے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس ایڈمرل امجد
خان نیازی نے کہا کہ امن مشق کا مطلب ہی امن ہے اور اس کا مقصد
مشترکہ فوائد کےثمرات حاصل کرنا اور ایک دوسرے کو سمجھتے ہوئے تعاون کو
فروغ دینا ہے۔میری ٹائم سیکیورٹی نہ صرف قومی سلامتی اور بحری راستوں
کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے بلکہ یہ ملک کی معیشت کے لیے بھی انتہائی
ضروری ہے۔
وائس ایڈمرل امجد خان نیازی نے مشقوں کے آغاز کا اعلان کرتے
ہوئے بتایا تھا کہ مشقوں کا انعقاد 2 مرحلوں میں کیا جائے گا، پہلا مرحلہ
ہاربر ایکٹویٹیز جمعے (آج) سے اتوار تک جبکہ دوسرا مرحلہ 11 فروری سے 12
فروری تک جاری رہے گا جو سمندری مشقوں کا مرحلہ ہوگا۔ہاربر ایکٹویٹیز کے مرحلے میں سیمینارز،
مباحثے، اور عملی مظاہرے کیے جائیں گے اس کے ساتھ اس میں 3 روزہ بین
الاقوامی میری ٹائم کانفرنس بھی منعقد ہوگی۔
خیال رہے کہ ان مشقوں میں پاک فضائیہ اور بری فوج کے جوان بھی حصہ لے رہے
ہیں، افتتاحی تقریب میں مختلف ممالک کے سفرا اور وفود بھی موجود تھے۔
ان مشقوں کا آغاز 2007 میں ہوا تھا اس کے بعد سے ہر 2 سال کے عرصے میں ان کا انعقاد کی جاتا ہے۔ان مشقوں کا مقصد ایک دوسرے کے بحری تصورات اور طریقہ کار کی روایت کو
سمجھنا اور بحری حدود میں مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنا
ہے۔