سندھ سرکار نے صوبے کے تمام اسکولوں میں بچوں کو پولیو ویکسین کے
احکامات جاری کر دیئے۔ ویکسین سے انکار کرنے والےا سکولوں کیخلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
مراد علی شاہ کی زیرصدارت انسداد پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا۔ وزیراعلی
نے کہا سندھ حکومت پولیو کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ اجلاس
کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں گزشتہ سال ایک پولیو کیس کراچی میں
سامنے آیا تھا، ماحولیاتی نمونوں سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے سہراب گوٹھ،
مچھر کالونی، خمیسو گوٹھ، محمد خان کالونی، اورنگی نالہ اور ہجرت کالونی
میں وائرس موجود ہے جبکہ نیو سکھر میں بھی پولیو وائرس پایا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا جنوری تک 88 ہزار 472 بچے پولیو ویکسین کیلئے گھروں
پر موجود نہیں تھے جبکہ 86 ہزار سے زائد والدین نے ویکسین لینے سے انکار
کیا۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکریٹری کو ہفتہ وار رپورٹ لینے کی ہدایت کر دی۔
پولیو مہم کے حوالے سے اسکول پرنسپل معین ہاشمی کا کہنا تھا کہ حکومت کی
جانب سے بہت اچھی مہم شروع کی گئی ہے پاکستان کیلئے پولیو فری مہم بہت
ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں پولیو پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔ پولیو ٹیم کا
عملہ ہر ماہ اسکولوں میں آتا ہے اور ہم ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں،
بچوں کو پولیو کے قطرے پلواتے ہیں۔ ہم نے طلباء وطالبات کے والدین کو بھی
آگاہ کردیا ہے۔
خاتون ٹیچر فرزانہ ناہید کا کہنا تھا کہ یہ وزیرا علیٰ سندھ کی بہت اچھی
کاوش ہے، حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے ہمارا ملک پولیو سے
پاک ہوجائے ، اس اقدام سے بچے معذور ہونے سے بچیں گے، ہم اپنے اسکول میں
ہر ماہ باقاعدگی سے پولیو کے قطرے پلواتے ہیں اور ہم تو گھر میں لکھ کر بھی
بھیجتے ہیں اور والدین سے اجازت لیتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو معذوری سے
بچائیں۔
ایک طالبہ علشبہ کا کہنا تھا کہ حکومت بچوں کو پولیو کے قطرے پلاکر بہت اچھام کام کررہی ہے۔
ایک طالبعلم عبدالصمدکا کہنا تھا کہ ہر والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائیں۔