پاکستان
پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی
کا دائرہ اختیار کراچی تک تھا،ایک معاملے کی تحقیقات دو اداروں کو نہیں
کرنی چاہیئں ،سپریم کورٹ کے زبانی احکامات کو تحریری حکم کا حصہ ہی نہیں
بنایا گیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا
زبانی حکم دیا گیا،سپریم کورٹ کے تحریری حکمنامے میں بلاول کا نام نکلوانے
کا ذکر نہیں۔
سپریم
کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمٰن کا مزید کہنا
تھا کہ نیب کی تحقیقات کراچی میں ہی ہونی چاہئیں۔عدالتی کاروائی پر سوالات
تو اٹھتے ہیں۔جب کراچی کی بینکنگ کورٹ میں کیس چل رہا تھا تو سپریم کورٹ
لانے کی کیا ضرورت تھی۔ساری تحقیقات سندھ میں ہوئی اور اب اس کو راولپنڈی کیسے لایا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں پوری امید ہے سپریم کورٹ نظر ثانی اپیل میں مثبت فیصلہ آئے گا۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ اس کیس سے بلاول بهٹو کا کوئی تعلق نہیں لیکن تحریری فیصلہ اس کے بر عکس آیا۔