کلبھوشن یادیو کیس کی عالمی عدالت میں سماعت کے موقع پر
پاکستانی وکیل خاور قریشی کے جاندار دلائل سن کر بھارتی وکیل سر پکڑ کر
بیٹھ گئے۔
خاور قریشی کا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس میں جاندار دلائل دیتے ہوئے
کہنا تھا کہ بھارت نے شہریت کا اعتراف نہیں کیا تو قونصلر رسائی کا مطالبہ
کیسا؟ نیوی کمانڈر نے مسلم شناخت والا پاسپورٹ کیوں رکھا؟ سینتالیس سال کی
عمر میں ریٹائرمنٹ کا بیان ناقابل فہم، ہمپٹی ڈمپٹی کی طرح بھارت بھی دیوار
پر بیٹھا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں دہشتگردی کی طویل فہرست ہے۔
عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے
دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے گزشتہ روز کئی اہم سوالوں کے جواب نہیں
دیئے۔ کلبھوشن یادیو پر بھارتی موقف مضحکہ خیز ہے۔ ماضی میں بھارت کی
نمائندگی بھی کر چکا ہوں۔ بھارت پاکستان کے سوال کا جواب دینے سے تحریری
انکار کر چکا ہوں۔
خاور قریشی نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ بھارت کے پاس کمانڈر کلبھوشن
یادیو سے متعلق کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ بھارت نے پاکستان کو آج تک کلبھوشن
یادیو کا اصل پاسپورٹ نہیں دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا موقف ہے کلبھوشن یادیو ریٹائرڈ افسر تھا لیکن
اس کی شہریت سے تاحال واضح نہیں کیا گیا۔ بھارت نے نہیں بتایا وہ حسین
مبارک پٹیل ہے یا کلبھوشن یادیو؟ جب ایک شخص کی شناخت مصدقہ نہیں تو قونصلر
رسائی کیسی؟
ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاسپورٹ سسٹم میں جعلسازی فوری پکڑی جا سکتی ہے۔ کلبھوشن کے پاسپورٹ سے متعلق برطانوی رپورٹ پیش کر دی ہے۔