وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں ریونیو اکٹھا کرنے کے سلسلے میں
کئے جانے والے حکومتی اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر
خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیر مملکت برائے ریونیو
عماد اظہر، ترجمان ندیم افضل چن، معاون خصوصی افتخار درانی، چیئرمین ایف بی
آر جہانزیب خان اور دیگر افسران شریک ہوئے۔
چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس اکٹھا کرنے، ٹیکس بیس میں اضافہ، نادہندگان سے
ٹیکس وصولی کیلئے کئے جانے والے نئے اقدامات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا
گیا۔اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کو بریفنگ دی گئی کہ بائی نیٹ ورتھ
افراد کے چھ ہزار سے زائد کیسز زیر غور ہیں جن سے کل دو ارب سے زائد کی
آمدن متوقع ہے۔ اب تک ان میں 1.3 ارب کی وصولی کی جاچکی ہے۔معلومات اور
تحقیقات کے چھیاسٹھ کیسز پر کام جاری ہے جن میں سے اب تک 1.5 ارب روپے سے
زائد کی وصولی کی جاچکی ہے۔ بیرون ملک جائیدادوں (آف شور ایسیٹس) کے کیسز
میں اب تک چھ ارب سے زائد کے واجب ا لاادا ٹیکسز اکٹھے کئے جاچکے ہیں۔
سیکشن 214 ای کے تحت 1.573 ارب روپے کی وصولیاں کی جاچکی ہیں۔ ایف بی آر کی
جانب سے اب تک دو ہزار پلازہ کی میپنگ کی جاچکی ہے جبکہ 2500 سے زائد
پوائنٹس آف سیل پر قابل وصول ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے خود کار نظام کی تنصیب
کی جاچکی ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ایف بی آرکی جانب سے ان نئے اقدامات کے تحت
24.818 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے جبکہ اس میں سے اب تک 11.882 ارب روپے
وصول کئے جاچکے ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قابل وصول ٹیکسز کو اکٹھا کرنے کے لئے جدید طریقہ
کار بروئے کار لائے جائیں تاکہ جہاں نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکے
وہاں ٹیکس دہندگان کیلئے آسانیاں پیدا کی جاسکیں۔