ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف
غفور کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے واقعے کے فوری بعد بھارت
نے پاکستان پر الزامات کی بارش کردی لیکن پاکستان کی جانب سے پلوامہ واقعے
کا جواب فوراً نہیں دیا گیا بلکہ ہم نے اس بار جواب دینے کے لیے تھوڑا سا
وقت لیا جس کا مقصد بھارت کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی اپنے
طور پر تحقیق کرنا تھا اور وہ کرنے کے بعد وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو
جواب دیا۔
ترجمان
پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے
والے حملے پر پاکستان کے ردعمل سے متعلق نیوز بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا
کہ 1947 میں پاکستان آزاد ہوا اور اس
حقیقت کو بھارت آج تک تسلیم نہیں کرسکا، جب بھی پاکستان میں کوئی اہم وقت
ہو یا ملک میں استحکام ہو تو بھارت یا پھر مقبوضہ کشمیر میں کوئی نہ کوئی
واقعہ ہوجاتا ہے، بھارت نے کشمیر پر حملہ بھی کیا اور 70 سالوں سے کشمیر پر
قابض ہے اور 1965 میں ایل او سی پرکشیدگی ہوئی، بھارت اسے بارڈر پر لے
آیا، بھارت سے 65 کی جنگ کے ہمارے ملک پراثرات ہوئے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے وقت بھی پاکستان میں 8 اہم
ایونٹس ہونا تھے، سعودی ولی عہد کا پاکستان کا دورہ تھا، پاکستان میں
انویسٹمنٹ سے متعلق کانفرنس ہورہی تھی، افغانستان میں امن عمل کا سلسلہ چل
رہا تھا، یورپی یونین کی تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف
ورزیوں کی تحقیقات کرنا تھی، عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس چل رہا
تھا، کرتارپو ربارڈر پر دونوں ملکوں میں ملاقات ہونا تھی، ایف اے ٹی ایف کی
رپورٹ پر ڈسکشن ہونی تھی اور ایک اہم فیصلہ ہونا تھا ، پاکستان سپر لیگ
بھی ہورہی ہے جس کے کچھ میچز پاکستان میں بھی ہونا ہیں اور سب سے اہم یہ کہ
بھارت میں بھی آج کل الیکشن کا سیزن چل رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت میں متعدد افراد اس حملے کی
پیشگوئی کررہے تھے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پاکستان کی طرف کوئی ایل او سی
کراس کرے، لائن آف کنٹرول پربھارتی فورسزکا لیئرڈیفنس ہے، واقعہ اس علاقے
میں ہوا جہاں مقامی آبادی سے زیادہ فوج بیٹھی ہے اور جس جس نے حملہ کیا وہ
مقبوضہ کشمیر کا مقامی نوجوان تھا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سائبر وار چل رہی ہے جسے ہائبرڈ وار بھی کہا
جاتا ہے اور نوجوان نسل کو ہدف بنایا جارہا ہے ، بھارت میں یہ بات چیت
ہورہی ہے کہ پاکستان جنگی تیاریاں کررہا ہے لیکن جنگ اور بدلے کی دھمکی
بھارت کی طرف سے آئی ہے، ہم جنگ کی تیاریاں نہیں کررہے، تاہم دفاع کرنا
ہمارا حق ہے اور اس بار فوجی ردعمل مختلف قسم کا ہوگا، لائن آف کنٹرول پر
ہم نے 5 کراسنگ پوائنٹ بھی قائم کیے ہیں۔