اسلام آباد، پارٹی کارکنان مارچ
کیلئے تیا رہیں صرف قیادت کا انتظار کررہے ہیں، نفیسہ شاہ
پاکستان پیپلزپارٹی کی خواتین رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ کارڈ
کی سیاست نہیں کرتی، سندھ ایک صوبہ ہے جس کی منتخب اسمبلی ہے ،عمران خان
اے ٹی ایم کارڈ کی سیاست کرتے ہیں ان کی جیب میں اے ٹی ایم کارڈ ہوتے ہیں 2
کارڈوں کو انہوں نے قربان کردیا ہے۔ جب سعودی ولی عہد آئے تو اس وقت بھی
وزیراعظم اپوزیشن کو گندہ کرنا نہ بھولے اور اپوزیشن کو نہیں بلایا گیا۔
اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ آئی جی کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ جبکہ دوسرے صوبوں کے
وزیراعلیٰ آئی جیز کو تبدیل کررہے ہیں۔ ملک کو ساٹھ سے ستر فیصد گیس فراہم
کرنے والے صوبے کی اپنی انڈسٹری گیس نہ ملنے کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر
نیب کے کے پی کے بلوچستان اور پنجاب میں اس طرح کی کارروائی کرتی ہے
تو ہم اس کی مذمت کریں گے۔ وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں کہہ دیا تھا کہ
میں این آر او نہیں کروں گا۔ انہوں نے ملک کی سیاست کو دو حصوں میں تقسیم
کردیا ہے ایک اپوزیشن اور دوسری حکومت انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکن مارچ
کیلئے تیا رہیں صرف وہ قیادت کا انتظار کررہے ہیں۔ چیئرمین نیب کو
پیپلزپارٹی اور ن نے نہیں لگایا وہ ایک سسٹم کے تحت آئے ہیں ان کو احساس
ہونا چاہیے کہ انہوں نے ایک گھر میں گھس کر کارروائی کی اور اپنے رولز سے
تجاوز کیا ہے۔
اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات پلوشہ خان نے کہا کہ ہمیں نیا پاکستان نہیں چاہیے ہمیں 65 کا
پاکستان چاہیے ہمیں بھٹو کا پاکستان چاہیے۔ سرحد کے دونوں
اطراف نالائق حکمران ہیں اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش
کی تو ان کا خون ان دریاﺅں میں بہے گا، آغا سراج درانی کی گرفتاری کے دوران
چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان
کہتے تھے کہ میرے پاس ماں کے علاج کیلئے پیسے نہیں تھے لیکن ان کی بہن
کررہی ہے کہ ان کو ان کے والد نے پیسے دیئے تھے یہ بے نامی کی جائیدادیں
کہاں سے حاصل کیں۔