وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت منی لانڈرنگ کی موثر روک تھام کے
حوالے سے کیے جانے والے اقدامات اوران کے نتیجے میں حاصل ہونے والی
کامیابیوں پر اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، معاون خصوصی شہزاد اکبر، معاون خصوصی
افتخار درانی، گورنر سٹیٹ بنک طارق باجوہ، سیکرٹری داخلہ ، چئیرمین ایف بی
آر، چئیرمین ایس ای سی پی، ڈی جی ایف آئی اے و دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
گورنر اسٹیٹ بنک کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے حوالے سے ملک بھر
کے کمرشل بنکوں اور سٹیٹ بنک کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر
بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جعلی اکاؤنٹس کے ضمن میں اب تک چھ مختلف بنکوں کو 247ملین روپے جرمانہ
جبکہ 109افسران کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے بنک اکاؤنٹس کھلوانے میں حائل
دشواریوں کو بھی دور کیا جا رہا ہے۔ ملک کے اندر ایف ایم یو کی مختلف اداروں بشمول قانون نافذ کرنے والے
اداروں کے ساتھ کوارڈینیشن کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ مشکوک ٹرانزیکشنز
پر بر وقت کاروائی کرکے منی لانڈرنگ کو روکا جا سکے۔ کسٹم حکام کی جانب سے جولائی 2018سے جنوری2019تک کل 439ملین روپے مالیت
کی کرنسی ضبط کی گئی جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقم 131ملین تھی۔ اس
مد میں235فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایف بی آر حکام کی جانب سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اینٹی منی لانڈرنگ
کے قانون کے نفاذ کے بعدمئی2016سے جنوری2019تک کل 335مشکوک ٹرانزیکشنزکا
اجراء کیا گیا جس کے نتیجے میں پانچ سو سے زائد کیسز کی تحقیقات کی گئیں
اور 6.6ارب روپے کی ریکوری ہوئی۔
وزیرِ
اعظم عمران خان نے ایف ایم یونٹ کو مزید فعال اور مستحکم کرنے کی ہدایت
کرتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ ملکی معیشت کیلئے ناسور ہے جس سے ملکی
معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر
کسی رعایت کے مستحق نہیں ایسے عناصر کو بے نقاب کرکے انکی اصلیت عوام کے
سامنے لائی جائے۔