پاکستان
رینجرز سندھ نے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ایم کیو ایم لندن کے آٹھ ملزمان
گرفتار کرلئے، گرفتار تمام ملزمان سلیم بیلجئیم کی ٹیم کا حصہ ہیں۔7 ملزمان ابھی بھی مفرور ہیں۔
رینجرز ہیڈ کوارٹر میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کرنل فیصل اعوان نے بتایا کہ کراچی آپریشن میں شہر کا امن بحال ہوا۔شہر کے امن کو خراب کرنے
کیلئے تسلسل سے واقعات رونما ہوئے۔9 نومبر 2018 کو ایم کیو ایم کی محفل
میلاد میں دہشت گردی ہوئی،پی ایس پی کے کارکنان پر بھی حملے کا واقعہ پیش
آیا۔11 فروری 2019 کو ایم کیو ایم پاکستان کا ایک کارکن جاں بحق اور ایک
زخمی ہوا۔ان واقعات پر ہم نے ٹاسک فورس تشکیل دی۔
کرنل
فیصل اعوان کا کہنا تھا کہ سلیم بیلجئیم لندن سے جاری احکامات پر یہ
وارداتیں کرتا تھا،ملزمان آپس میں رابطے کیلئے واٹس ایپ استعمال کرتے
تھے،جن کا تعلق زیادہ تر برطانیہ سے تھا۔گرفتار ملزمان سے کلاشنکوف 9 ایم
ایم پستول وار دیگر اسلحہ برآمدکرلیا گیا۔ تمام
اسلحہ ایم کیو ایم لندن کے گرفتار ملزمان نے لیاقت آباد بی 1 کے ایریا میں
ایک گھر میں چھپا کر رکھا تھا۔
انہوں
نے بتایا کہ ملزم کو 2011 میں رینجرز نے گرفتار کرکے پولیس کے حوالے
کیامگر وہ مقدمات کا سامنا کرکے ملک سے باہر چلا گیا۔ابتدائی تفتیش کے
مطابق ان ملزمان نے اہم انکشاف کیے۔ان ملزمان کو الطاف حسین کی ہدایت پر
سلیم بیلجیم نے احکامات دئیے۔سلیم بیلجئیم الطاف حسین کے احکامات پر یہ
وارداتیں کرتا تھا،کمانڈر ان چیف اور میجر صاحب کے نام سے بیرون ملک نمبروں
کا ستعمال کیا جارہا تھا۔ملزمان آپس میں رابطےکیلئے واٹس ایپ استعمال
کرتے تھے۔سلیم بیلجیم الطاف حسین کے کہنے پر ٹارگٹ کلنگ ٹیم کو چلا رہا
تھا۔