دارالحکومت اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ کی فٹ پاتھوں پر لگے لُنڈا بازار
غریبوں کیلئے فائدے مند ثابت ہورہے ہیں۔ لُنڈا بازار میں جیکٹس، واسٹک،
پینٹس شرٹس، ٹی شرٹس ، اسکول کے بستے ،ٹوپیاں، بچوں کے گرم سوٹس، تسبیاں
شالیں، گھڑیاں، ٹراؤزر کرتا شلوار، چپلیں اور دیگر استعمال کی اشیاء
انتہائی سستے داموں باآسانی مل جاتی ہیں۔
بازار میں خریداری کیلئے آئے ایک شہری مقبول احمدکا کہنا تھا کہ آبپارہ
مارکیٹ کے ساتھ فٹ پاتھ پر بازار لگتا ہے، بڑی بڑی دکانوں پر پندرہ پندرہ
سو دو دوہزار روپے روپے کی شرٹس ملتی ہیں مگر یہاں لنُڈا بازاروں سے تین سے
چار سو روپے کی باآسانی شرٹس مل جاتی ہیں ، میں نے دو تین شرٹس خریدی ہیں
ہمارے لئے یہ بازار فائدے مند ہیں۔
لُنڈا بازار لگانے والے محمد خان کا کہنا تھا کہ عرصہ دراز سے اسلام آباد
آبپارہ مارکیٹ کے ابہر میں لُنڈا کا بازار لگاتا ہوں، اس کی بنیادی وجہ یہ
ہے کہ اسلام آباد میں زیادہ تر لوگ ملازمت پیشہ ہوتے ہیں، انہیں مہینے بعد
تنخواہ ملتی ہیں اور اس تنخواہ میں وہ اگر اسلام آباد کے اچھے شاپنگ مالوں
میں خریداری کریں گے تو ایک چیز بھی نہیں خرید سکتے کیونکہ بڑے بڑے مالوں
کی دکانوں کے لاکھوں روپے کرائے ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے وہاں اشیاء بہت ہی
زیادہ مہنگتی ہوتی ہیں۔ ہم بہت مناسب دام میں گاہکوں کو کپڑے فروخت کرتے
ہیں۔ انسان کے پورے پہننے کی چیزیں ڈھائی تین سو روپے میںآجاتی ہیں۔ حکومت
اس جانب توجہ مبذول کرے تاکہ ہمارے ساتھ ساتھ غریبوں کا حال بھی اچھا رہے۔
اس بازار سے غریبوں کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔
لُنڈا بازار لگانے والے فاروق عظیم کاکہنا تھا کہ مہنگائی کے اس دور میں
بھی غریب آدمی اپنا نظام چلارہا ہے، ہم بھی اپنا نظام چلارہے ہیں اور یہ
بازار لگاکر بچوں کی روزی کمارہے ہیں، غریب اور امیر دونوں ہمارے پاس آتے
ہیں، حکومت کو چایے کہ وہ ہمارے لئے کوئی ایسا کام کرے کہ ہمیں کوئی پریشان
نہ کرسکے۔