پشاور، بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل میں تاخیر سے پشاور کے تاجروں کو نقصان کا سامنا
پشاور بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل میں تاخیر سے تاجروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
پشاور کے تاجروں کاکہنا ہے کہ دو سال پورے ہونے کو ہیں
لیکن منصوبہ انتہائی سست روی کا شکار ہے اور شہر کے ہر حصے میں مزدور کام
ادھورا چھوڑ جاتے ہیں اور سامان سڑک کے درمیان پڑا رہتا ہے جس کی وجہ سے
ٹریفک میں خلل پڑ جاتا ہے اور شہر کے باہر سے آنے والے گاہک رش کی وجہ سے
شہر میں داخل نہیں ہو سکتے۔جس کی وجہ سے ہمارا لاکھوں روپے کا کاروبار اب
نہ ہونے کے برابر ہے اور بارش کی وجہ سے بھی روڈ پر پانی جمع رہتا ہے جس
کی وجہ سے پیدل جانے والے لوگوں کو چلنے میں دشوار ی کا سامنا رہتا ہے۔
پشارو کے شہریوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ
منصوبے کو جلد از جلد پورا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کا حکم جاری کریں تاکہ
شہریوں کے مسائل میں کمی ہو۔
پشاور کے لوگوں کا
کاروبار پچھلے دس سالوں سے دہشت گردی کی وجہ سے خراب تھا اور اب رہی سہی
کسر بی آر ٹی کے اس منصوبے نے پوری کر دی ہے۔
ایک تاجر
ربید افتخار کا کہنا تھا کہ جب سے میٹرو شروع ہوئی ہے ہمارا کاروبار بالکل
ختم ہوگیا ہے۔ بی آر ٹی منصوبے کا کوئی اسٹریکچر نہیں ہے ۔ ایک دن کام
ہوتا ہے اور دو دن نہیں ہوتا۔جب بارش ہوتی ہے تو سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا
ہے جس کی وجہ سے یہاں پر گاہکوں کی آمد و رفت کم ہے ۔ سال ڈیڑھ سال سے ہم
اپنی جیبوں سے کرایا بھر رہے ہیں۔
ایک اور تاجر حضور بخش کا کہنا تھا
کہ جو حالات آپ دیکھ رھے ہیں کام کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے۔ ہر کوئی رو رہا
ہے۔ جو جو کاروبار لاکھوں کا کررہے تھے وہ ہزاروں پر آگئے ہیں۔
مظفر علی کام بہت زیادہ خراب ہوگیا ہے بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے تاجروں سے پشاور آنا چھوڑ دیا ہے۔ سڑک عموما بلاک رہتی ہے۔