لاہور، سمجھوتہ ایکسپریس 166 مسافروں کو لے کرلاہورسے نئی دلی روانہ
پاک بھارت کشیدگی کے باعث چارروزکی تاخیرکے بعد
لاہورسے سمجھوتہ ایکسپریس 166 مسافروں کو لے کرلاہورسے نئی دلی روانہ
ہوگئی۔ ٹرین روانگی کے موقع پرلاہورریلوے اسٹیشن پرسیکیورٹی کے انتہائی سخت
اقدامات کیے گئے۔
سمجھوتہ ایکسپریس کے ساتھ بھارتی ریلوے کی دس مال بردار بوگیاں بھی بھارت
روانہ ہوئی جبکہ بھارت سے آنے والے مسافروں کو لے کر سمجھوتہ ایکسپریس شام
6 بجے لاہور واپس پہنچے گی۔
ضلع سارن پور کی رہائشی نصیبہ کا کہنا تھا کہ ہمارا ویزا تو ختم ہوگیا تھا ۔
کشیدگی کی وجہ سے تین چار دن ہمیں انتظار کرنا پڑا۔ پاکستانی لوگ بہت
مہمان نواز ہیں۔ پاک بھارت دونوں ممالک میں خوشحالی ہونی چاہیے۔ سمجھوتہ
ایکسپریس کو کسی بھی صورت میں بند نہیں ہونا چاہیے، کشیدگی کے بعد ٹرین کی
بندش سے بہت تکلیف ہوتی ہے یہاں پر ہمارے رشتہ دار ہیں ملنا ملانا تو چلتا
رہتا ہے۔
جمنا پار کے رہائشی ایک بزرگ شہری محمد عارف کا کہنا تھا کہ کا کہنا تھا کہ
ہم یہاں پر 12 فروری کو آئے تھے ، ہمیں یہاں مزید رہنا تھا لیکن حالات کی
وجہ سے ہمارے بچے فکر مند ہوگئے اور وہ ڈرنے لگے تھے، پاک بھارت کی عوام
ایک دوسرے سے خوش ہیں وہ لڑنا نہیں چاہتے بلکہ ایک دوسرے سے ملنا چاہتے
ہیں۔
اقبال ٹاؤن لاہور کی رہائشی ماہ نور کا کہنا تھا کہ ہمیں ابھی تک یقین نہیں
ہورہا تھا کیونکہ ہم نے دو مرتبہ ٹکٹس منسوخ کرائی ہیں، اسی وجہ سے حالات
خراب ہوتے جارہے ہیں بعض اوقات لگا تھا کہ جنگ ہی چھڑ جائے گی، اللہ تعالیٰ
کا شکر ہے کہ دونوں طرف سے معاہدہ ہوگیا ہے اب ہمیں واقعی خوشی ہورہی ہے
کہ ہم واقعی جارہے ہیں۔