کراچی،حکومت کو دینی مدارس سے متعلق اپنے بیانیے پر نظرثانی کرنی چاہیے ، مفتی نعیم
نیشنل ایکشن پلان کے تحت پنجاب اور سندھ بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف
کریک ڈاؤن جاری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت درجنوں مدارس کو حکومتی تحویل
میں لے لیا گیا ہے جبکہ کالعدم تنظیموں کے انتہائی سرگرم گیارہ افراد کو
بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ متعدد جائیدادیں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔
دینی مدارس کے خلاف کارروائیوں پر جامعہ بنوریہ کے سرپرست مفتی نعیم کا
کہنا تھا کہ مدارس کے خلاف کارروائیوں کا نعرہ گزشتہ چالیس پچاس سالوں سے
حکومتیں لگاتی رہیں۔ مشرف نے نعرہ لگایا لیکن مشرف خود تباہ وبرباد ہوگیا
آج اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومت کو دینی مدارس سے متعلق اپنے بیانیے
پر نظرثانی کرنی چاہیے ، ہم دہشت گردی میں ملوث تعلیمی اداروں کے خلاف بلا
امتیاز کارروائی کے حق میں ہیں ، محض مدارس کو نشانہ بنایا جانا غلط ہے۔
مفتی نعیم کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کے اندر کسی کو اس بات کا اختیار نہیں
ہونا چاہیے کہ وہ الگ سے اسلحہ اٹھاکر ریاست کے خلاف جدوجہد کرے یہ ریاست
کیلئے نقصاندہ ہے لہٰذا اس ضمن میں حکومت کا بیانیہ غلط ہے۔ مدارس میں
طلباء کی تعداد بڑھی ہے کم نہیں ہوئی۔ داڑھی رکھنے اور پگڑی باندھنے والا
ضروری نہیں مدرسے کا طالبعلم ہو۔ ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کوشش کرنے
والی تنظیموں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔
مفتی نعیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کارروائیاں ہورہی ہیں
وہ پاکستان نہیں کرارہا، کشمیری گزشتہ ستر برس سے مظالم برداشت کررہے ہیں
،آئے روز قتل وغارت گری ہورہی ہے اب اگر وہ تحریک اٹھی ہے اس کو پاکستان پر
تھوپنا غلط ہے۔ ہندوستان کی حکومت کو چاہیے کہ کشمیریو ں کے مسائل حل کرے
اگر وہ آزادی چاہتے ہیں ان کو آزادی دی جائے اس معاملے میں بھارت کی دہشت
گردی پوری دنیا پر واضح ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرپر کتنے مظالم کررہے ہیں۔
مفتی نعیم کا کہنا تھا کہ دینی مدارس کے خلاف اگر کارروائی کی گئی تو یہ
یاد رکھیں کہ ایک حکومت اپنے لئے اور مسائل پیدا کرے گی اور مذہبی طبقے کو
اپنے مخالف بنائے گی، پینتیس سے چالیس لاکھ طلباء مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔