کراچی، عوامی حلقوں کا ریلوے کرایوں میں ڈیم فنڈز کی رقم شامل کئے جانے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار
عوامی حلقوں نے وزارت ریلویز کی جانب سے ریلوے کرایوں میں ڈیم فنڈز کی رقم
شامل کرنے کے فیصلے پر ملے جلے رجحان کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ
ملک میں ڈیم بننے چاہئیں تاہم اس ضمن میں وزارت ریلوے کی جانب سے جبرا
ریلوے کے کرایوں میں فنڈ کے پیسے شامل کرنا سراسر غلط اقدام ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ وزارت ریلوے کی جانب سے ریلوے کرائے میں ڈیم فنڈز کی
رقم شامل کیا جانا ایک طرح سے بہتر قدم ہے کیونکہ پانی کی ہر جگہ کمی ہے۔
بہت سے علاقوں میں پانی کے ٹینکرز خریدے جاتے ہیں، پانی آ نہیں رہا لوگ
پریشان ہیں، گندا پانی استعمال کررہے ہیں۔ صرف دو روپے سے کچھ نہیں بگڑے
گا، اگر ساری قوم مل کر یہ کام کرے گی تو ملک میں ڈیم بنے گا اور ملک ترقی
کرے گا، ملک میں پانی کی قلت دور ہوجائے گی، ہم دوسرے ملکوں کے محتاج نہیں
ہوں گے۔ حکومت اکیلے کچھ نہیں کرسکتی، حکومت کو عوام کا ساتھ چاہیے۔
شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ ڈیم بنانا بہت اچھا اقدام ہے، ہمارے ملک میں
ڈیموں کی اشد ضرورت ہے لیکن اس ضمن میں زبردستی ریلوے کرائے میں ڈیم فنڈ
شامل کیا جانا غلط اقدام ہے کیونکہ ریلوے کرایوں میں پہلے ہی بیس فیصد
اضافہ کیا گیا ہے۔ دن بہ دن مہنگائی ہوتی جارہی ہے۔ اپنے ہاتھ سے جو بھی
چندہ دے رہے ہیں وہ بہتر ہے، چندہ وہی ہوتا ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے دے،
زبردستی چندہ نہیں لیا جاسکتا۔
عوام نے یہ بھی کہا کہ جو ڈیم بن رہا ہے ہماری اہم ضرورت ہے۔ بن جائے گا تو
پاکستان کیلئے بہت بہتر ہے۔ ٹکٹ میں دو روپے شامل کردیئے گئے ہیں جہاں ٹکٹ
کے ہزاروں روپے بھر رہے ہیں تو دو روپے سے کیا ہوتا ہے۔