کوئٹہ،ماہ صیام میں کھجور کی مانگ میں زبردست اضافہ، دکانوں اور بازاروں میں غیر معمولی رش
صوبائی
دارالحکومت کوئٹہ میں ماہ صیام کے دوران کھجور کی مانگ میں زبردست
اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کی وجہ سے دکانوں اور بازاروں میں عوام کا
غیر معمولی رش دیکھا جارہا ہے تاہم عوام نے کھجور کے داموں میں بیش بہا
اضافے کا بھی شکوہ کیا ہے کہتے ہیں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ کھجور کے دام گزشتہ سال کی نسبت امسال دگنے ہوگئے ہیں۔
روزے
دار لازمی طور پر کھجور سے افطار کرتے ہیں جس کی وجہ سے رمضان المبارک میں
کھجور کی طلب بڑھ جاتی ہے ایسے موقع پر ذخیرہ اندوز اور منافع خوروں اپنی
آستینیں چڑھا لیتے ہیں اور منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں۔
ایک
دکاندار عبداللہ کا کہنا تھا کہ ٹیکسز میں اضافے کی وجہ سے کھجور کے نرخ
بڑھ گئے ہیں، بڑے بڑے بیوپاریوں نے پہلے سےمال ذخیرہ کیا ہوا ہے تاہم وہ
کہتے ہیں ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے کھجوروں کے دام بڑھ گئے ہیں۔پنچگور کی
کھجوریں اچھی ہوتی ہیں لیکن وہ اس وقت نہیں مل رہی کیونکہ وہاں پر کوئی
اسٹور نہیں ہے،ہمارے پاس اس وقت ایرانی کھجور ہے ابھی ہم بصریٰ شہر کے
کھجوربیچ رہے ہیں۔
ایک
شہری ارسلان محمد نے کا کہنا تھا کہ حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ غریب آدمی
کھجور کو لینے کی استطاعت نہیں رکھتا، بعض ایسے لوگ ہیں جو دس جگہ پوچھ
کر واپس چلے جاتے ہیں، کھجوریں بہت مہنگی ہونے کی وجہ سے نہیں خرید پاتے،
اخراجات اتنے زیادہ ہیں لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔ پہلے دو سو کا کھجور مل
رہا تھاجو امسال ساڑھے تین سو کا مل رہا ہےاور ڈیڑھ سو والا ڈھائی سو میں
مل رہا ہے، مہنگائی نے عوام کا کمر توڑ دی ہے۔
ایک
دکاندار رحمت اللہ کاکڑنے بتایا کہ گزشتہ سال کی نسبت امسال کھجور کے دام
دگنے ہوگئے ہیں۔پہلے مال سے بھری گاڑی کا ٹیکس دو لاکھ 63 ہزار روپے جمع
کرتا تا اب 6 لاکھ 2 ہزار روپے جمع کرایا ہے کیونکہ ڈالر کا ریٹ 148 روپے
تک جا پہنچا ہے۔