May 12, 2019 07:58 pm
views : 269
Location : Different Places
Karachi- 12 May Black Day
کراچی،سانحہ 12 مئی 2007 کو 12 سال کا عرصہ بیت چکا
سانحہ 12
مئی 2007 کو 12 سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن واقعے کے ذمے داروں کوتاحال
سزا نہ ہوسکی۔بارہ مئی 2007 کو وکلاء تحریک اپنے عروج پر تھی، اُس وقت کے
غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سندھ ہائی کورٹ کی 50ویں سالگرہ کے
موقع پر کراچی آرہے تھے کہ اس موقع پر شہر کو خون سے نہلا دیا گیا۔
شہر
کی شاہراہوں پر اسلحے کا آزادانہ استعمال دیکھنے میں آیا اور خون ریزی
میں وکلاء سمیت 48 افراد شہر کی سڑکوں پر دن دہاڑے قتل کردیئے گئے تھے۔ان
واقعات میں 130 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے , درجنوں گاڑیاں اور املاک
نذر آتش کی گئیں جس کے بعد شہر کے مختلف تھانوں میں ان افراد کے قتل کے 7
مقدمات درج ہوئے۔
تقریباً ڈھائی سال قبل پولیس نے ساتوں مقدمات کے چالان
انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جمع کرایا، جس میں اُس وقت کے مشیر داخلہ
اور موجودہ میئر کراچی وسیم اختر سمیت 55 سے زائد ملزمان نامزد ہیں اور
تمام ضمانت پر رہا ہیں۔پندرہ مئی 2018 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے
سانحہ 12 مئی سے متعلق کیس میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت دیگر ملزمان پر
فرد جرم عائد کی۔
دوسری جانب پولیس نے سانحہ 12 مئی کے سلسلے میں جے آئی
ٹی کی 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ تیار کر لی، پولیس کا کہنا ہے کہ سانحے میں
ملوث مزید ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں اور 9 کیس چالان کر دیے گئے۔
امیر
شیخ کا کہنا تھا کہ میڈیا اور دیگر اداروں کو ثبوتوں اور فوٹیج کے لیے خط
لکھے گئے ہیں، کوشش کریں گے ڈیڑھ ماہ میں جے آئی ٹی رپورٹ فائنل کر دیں۔
کراچی
پولیس چیف نے کہا کہ مجموعی طور پر 45 مقدمات کا چالان کر دیا گیا ہے، 7
مزید نئے مقدمات کے ساتھ 31 مقدمات زیر سماعت ہیں، اب تک درج مقدمات کی
تعداد 65 ہو گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ 12 مئی کیس میں 3 ملزمان کو سزا دی
جا چکی ہے، اب تک 19 ایسے مقدمات ہیں جو حل نہیں ہو سکے، جے آئی ٹی اب تک
اپنے 2 سیشن مکمل کر چکی ہے، تیسرا سیشن 15 رمضان، چوتھا عید کے بعد شروع
کیا جائے گا۔
وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سانحہ 12 مئی ملکی تاریخ کا
سیاہ ترین دن ہے، جسے وکلاء 'بلیک ڈے' کے طور پر مانتے ہیں اور اس کی ذمہ
دار حکومت سندھ اور وہ تمام ادارے ہیں جن کا کام شہر میں امن و امان کی
صورتحال برقرار رکھنا ہے۔
اس حوالے سے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے
گفتگو کرتے ہوئے سینیئروکیل کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کا دن قیامت سے کم
نہیں تھا ہم دعا کرتے ہیں کہ دوبارہ ایسا نہ ہو،سانحے کی ذمہ دار وفاقی اور
مقامی حکومت تھی،آج بھی ذمہ داران کسی نہ کسی طرح حکومت میں ہیں کئی چشم
دید گواہ موجود ہیں لیکن سامنے نہیں آتے۔
ایک وکیل عامر سلیم کا کہنا
تھا کہ سانحے کے مرکزی کردار اب ڈھکے چھپے نہیں ہیں،اتنا بڑا سانحہ ہوا جس
میں حکومتی مشینری استعمال کی گئی،اگر کوئی جج یا وکیل اس حوالے سے بات
کرتا ہے تو اسے ہٹانے یا دھمکانے کا سلسلہ شورع ہوجاتا ہے۔