اسلام آباد، ایمنسٹی اسکیم کا مقصد ریونیو جمع کرنا نہیں معیشت کی بہتری ہے، مشیر خزانہ
مشیر
خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ بے نامی پراپرٹی وائٹ نہیں کی جاتی تو
قانون کے تحت ضبط کی جا سکے گی۔ ریونیو جمع کرنے کے لیے نہیں معیشت کی
بہتری کے لیے اسکیم کی منظوری دی گئی۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے
چیئرمین شبر زیدی نے میڈیا بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے
بتایا کہ آج کابینہ نے مختلف نکات کی منظوری دی ہے، اثاثے ظاہر کرنے کی
اسکیم کی بھی منظوری دی گئی۔ فیصلہ کیا گیا جو اثاثے ظاہر نہیں انہیں کس
طرح سامنے لایا جائے۔
حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ریونیو جمع کرنے کے لیے
نہیں معیشت کی بہتری کے لیے اسکیم کی منظوری دی گئی، اسکیم بہت ہی آسان ہے
تاکہ لوگوں کو مشکلات پیش نہ آئیں۔ اسکیم کا فلسفہ یہ نہیں کہ لوگوں کو
ڈرایا دھمکایا جائے بلکہ بزنس کا ارادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکیم میں
30 جون تک لوگ شامل ہو سکتے ہیں اور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسکیم میں ہر
پاکستانی شہری حصہ لے سکتا ہے۔ وہ لوگ جو عوامی عہدہ رکھتے ہیں یا ماضی میں
رہ چکے ہیں وہ اس کا حصہ نہیں بن سکتے، سرکاری عہدہ رکھنے والے اور ان کے
اہلخانہ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ظاہر کیے
گئے منقولہ اثاثے پاکستان لانا ہوں گے، ظاہر کیے گئے اثاثے بینک میں بھی
جمع کروائے جا سکتے ہیں۔ جو لوگ اثاثے پاکستان نہیں لانا چاہتے انہیں
مجموعی طور پر 6 فیصد دینا پڑے گا۔ بے نامی اکاؤنٹس اور جائیداد سے متعلق
بھی اسکیم کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بے نامی قانون کو لاگو کرنے کے لیے
یہ اقدامات فائدہ مند ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور حکومت
پاکستان کے مذاکرات گزشتہ 7، 8 ماہ سے چل رہے تھے۔ بیرون ملک پیسہ 4 فیصد
ٹیکس دے کر وائٹ کیا جا سکتا ہے۔ اسکیم کا مقصد پیسہ جمع کرنا نہیں اسے
معیشت میں ڈال کر فعال کرنا ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات مثبت انداز میں
ہوئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں اسٹاف لیول کا معاہدہ ہوا ہے، آئی ایم ایف کے
بورڈ سے منظوری ہونا باقی ہے۔