وائس ایڈمرل مارک نورمن کو دو ہزار سترہ میں معطل کئے جانے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں،کینیڈین وزیر دفاع
کینیڈین
وزیر دفاع ہرجیت سجن کا کہنا ہے کہ وہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے وائس ایڈمرل
مارک نورمن کو دو ہزار سترہ میں معطل کئے جانے کے فیصلے کی حمایت کرتے
ہیں،ایک سال قبل انہیں برطرف کردیا گیا تھا جب ان پر الزام لگا تھا کہ
انہوں نے فوج کے حوالے سے حکومتی راز لیک کئے تھے،لیکن سجن نے ہاؤس آف
کامنز کو بتایا کہ جنرل جوناتھن وینس نے اکیلے انہیں معطل کرنے کا فیصلہ
کیا تھا۔
حزب اختلاف کی جانب سے یہ الزام عائد کئے جانے کے بعد کہ
حکومت معاملے میں دخل اندازی کر رہی ہے پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے ان پر
لگے چارجز کو اچانک روک لیا گیا ہے۔ جبکہ سجن کی جانب سے اہم دفاعی معاملات
پر چار گھنٹے کی طویل بحث کے بعد اپوزیشن کے مؤقف کو مسترد کردیا گیا ہے۔
سجن
نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کہ نورمن کیس کی حکومت کی جانب سے آغاز سے اختتام
تک مکمل طور پر غیر جانبدار اور آزاد تحقیقات کی گئیں جس میں نورمن کی
معطلی اور آر سی ایم پی کے اس حوالے سے فیصلے سمیت دیگر اہم امور شامل
ہیں۔
سجن نے کامنز کو بتایا کہ کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے اوپر کینیڈین
آرمز فورسز کے انتظامات اور دیگر امور کی مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور
جب انہوں نے فیصلہ لیا تو میں نے اسکی حمایت کی۔