کراچی، انتظار کی گھڑیاں ختم، پھلوں کے بادشاہ آم نے انٹری ڈال دی
آم
کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔جی ہاں اب آم کے شیدائیوں کو انتظار نہیں
کرنا پڑے گا کیونکہ پھلوں کے بادشاہ آم نے بازاروں میں انٹری ڈال دی
ہے۔ ابھی تو آموں کا سیزن باقاعدہ طریقے سے شروع ہی نہیں ہوا اور آموں
کے نرخ آسمانوں سے باتیں کررہے ہیں ۔ پھل فروشوں نے اپنی آستینیں چڑھا لی
ہیں۔
پاکستانی
آموں کو بین الاقوامی دنیا میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے اسی لئے پاکستان
آموں کو برآمد کرنے والے ممالک میں بہت اہم مقام رکھتا ہے۔
پاکستان
میں آموں کی بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں جن میں مشہور اقسام سرولی،
دسیری، لنگڑا، سندھڑی، چونسہ، گلاب خاص، فجری، انور ریٹرول، بینگن پھلی،
گلاب پاش، طوطا پری، الماس اور کلیکٹر شامل ہیں۔
ایک
خریدار محمد محسن کا کہنا تھا کہ ابھی تو فی الحال صحیح طریقے سے پکا ہوا
نہیں آرہالیکن اس کے باوجودآم کے نرخ بہت زیادہ ہیں، سندھڑی کے نرخ تین سو
بیس روپے کلو میں فروخت ہورہے ہیں جبکہ گذشتہ سال ڈیڑھ سو روپے میں فروخت
کئے گئے تھے۔ بدقسمتی سے ہر سال اچھے آموں کو برآمد کردیا جاتا ہے۔، آخر
میں اپنی اگائی ہوئی چیز بے کار معیار کی اور بہت زیادہ داموں میں ہمیں
ملتی ہے۔
ایک
اور خریدار جبار صابر کا کہنا تھا کہ آم تو بہت مہنگے ہیں ، معیار بھی فی
الحال صحیح نہیں ہیں، آموں کو صحیح طریقے سے مارکیٹ میں آنے میں کچھ
وقت لگے گا ، آم بہت اچھے آجائیں گے۔ویسے بھی آم کی فصل کو بارشوں اور
ژالہ باری کی وجہ سے بہت نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے آم کی پیداور اس
مرتبہ تیس فیصد کم ہوئی ہے۔ ان حالات میں کسانوں کو بھی ضرور مشکلات کا
سامنا رہتا ہے۔