کراچی، ڈالر کی اونچی اڑان سے کاروباری طبقہ پریشانیوں کا شکار
روپے کی قدر میں کمی
اور ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 151روپے تک پہنچنے پرکاروباری
طبقہ سخت پریشانیوں کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ عوام کا بھی کہنا ہے کہ روپے
کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قدر میں اضافے سے آئے روز پریشانیاں بڑھ رہی
ہیں۔
پاکستانی
روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ لمحہ فکریہ ہے۔ڈالر کی قیمتوں میں اضافے سے
تمام چیزوں کے ریٹ آسمان کو چھو جاتے ہیں جو کہ غریب کے ساتھ سراسر
ناانصافی کے مترادف ہے۔
ایک
دکاندار اظہر حفیظ کا کہنا تھا کہ ڈالر 150 روپے تک تو پہنچ گیا ہے مگر اس
کے باوجود بازار میں نہیں ہے۔ کم سے کم چھ سے سات دنوں میں ڈالر بازارمیں
آئے گا۔ڈالر کی قدر میں بے تحاشہ اضافے سے ہر چیز کی قیمتیں دگنی ہوگئی
ہیں۔ڈالر کی قدر میں دو روپے کا اضافہ ہوتا ہے تو دیگر چیزوں کی قیمتیں دس
روپے بڑھ جاتی ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اور اس میں سراسر عوام کا
نقصان ہے۔
ایک
بائیک ڈیلر ملک محمد اسلم کا کہنا تھا کہ میں تین دہائیوں سے موٹر
سائیکلیں فروخت کرنے کا کام کررہا ہوں۔ موجودہ وقت میں مجھے بہت پریشانی
کا سامنا ہے، ڈالر کی قدر میں اضافے سے گاڑیوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جس
کی وجہ سے گاہک نہیں آتا۔ عوام خوشحال ہوگی تو کام چلے گا۔ان حالات میں
روز کی دہاڑی کمانے والے کہاں جائیں گے۔
ایک
دکاندار محمد عابد کا کہنا تھا کہ نئی حکومت میں مہنگائی تو ہوتی ہے، آپ
نواز شریف یا آصف علی زرداری کی حکومتوں کو بھی دیکھ لیں۔ جاتے وقت بے
پناہ سبسڈیاں دے کر خزانے پر بوجھ ڈال کر چلے جاتے ہیں۔