May 19, 2019 03:15 pm
views : 306
Location : Domestic Place
Islamabad- NAB will never take dictation from any individual or institution
اسلام آباد،نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،چیئرمین نیب
چیئرمین
نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نیب اور
معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، نیب اور معیشت تو ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں
بلکہ نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ
جاوید اقبال نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب اور معیشت نہیں، نیب
اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
انھوں نے کہا کہ نیب نے ایسا قدم
نہیں اٹھایا جس کا ملکی معیشت کو نقصان ہو، معاشی زبوں حالی میں نیب کا
کوئی کردار نہیں ہے، جب سوال پوچھتے ہیں کیا نقصان کیا تو جواب میں خاموشی
چھا جاتی ہے،الزام لگایا گیا کہ نیب کی وجہ سے بیوروکریسی کام نہیں کررہی،
آئندہ کسی بزنس مین کو نیب میں نہیں بلاؤں گا، پالیسی بیان دے رہاہوں،
تاجروں کو بلانے کے بجائےسوالنامہ بھیجا جائے گا۔
چیئرمین نیب کا کہنا
تھا کہ نیب پبلک ہولڈر سے سوال کرسکتاہے کہ کروڑوں کہاں سے آرہے اور جا رہے
ہیں، فالودے اور چھابڑی والے کے اکاؤنٹ سے کروڑوں نکلیں اور نیب سوال نہ
کرے، نیب ثبوتوں کی بنیاد پر گرفتار کرتی ہے اور 24گھنٹوں میں ملزم کو
احتساب عدالت پیش کرنا ہوتاہے، نیب کسی قسم کی سیاست میں ملوث ہے اور نہ ہی
ارادہ ہے جب کہ پولیٹیکل انجینئرنگ ثابت ہوجائے تو چیئرمین نیب نہیں رہوں
گا۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سے نیب کا دوستانہ تعلق ہوتا
تو بجٹ کے لیے مشکلات نہ ہوتیں، ہمیں حکو مت سے اپنی ضرورت کا بجٹ حاصل
کرنے میں مشکلات ہیں، ملکی مفاد کا تحفظ کریں گے چاہے کوئی بھی قیمت ادا
کرنی پڑے، عالمی سطح پر ملک کا تاثر ٹھیک کرنا ہے اور کریں گے، ملک کو گرے
لسٹ سے نکالنا ہے۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہاکہ پاکستان کو گرے لسٹ سے
نکالنا ہے اور اس کی پوری کوشش کررہا ہوں پارلیمنٹ اورعوامی نمائندوں کا
احترام ہے تاہم جمہوریت احتساب سے نہیں بلکہ اعمال سے خطرے میں آتی، شکایات
کا ازالہ نہ کرسکوں تومجھے چیئرمین رہنے کاکوئی حق نہیں، ارباب اختیار اور
حکومت سے اپیل کرتاہوں جن کے کیسز نیب میں چل رہے انہیں عہدے نہ دیے
جائیں۔