کراچی، عیدالفطر کی آمد سے قبل ہی کام کی بھرمار ہونے کی وجہ سے درزیوں نے مزید سوٹ سینے سے اجتناب برتنا شروع کردیا
عیدالفطر
کی آمد سے قبل ہی کام کی بھرمار ہونے کی وجہ سے درزیوں نے مزید سوٹ سینے
سے اجتناب برتنا شروع کردیا ہے۔ پرمسرت عید کے تینوں دن لوگ نئے لباس زیب
کرتے ہیں جس کی وجہ سے درزیوں کی چاندی ہوجاتی ہے۔ سال بھر کام کم ہوتا ہے
تاہم عید کے قریب آتے ہی درزی رات رات بھر جاگ کر بکنگ کے سوٹ تیار کرتے
ہیں۔ کام حد سے زیادہ ہونے کے بعد اب تو درزیوں نے بھی کام لینے سے انکار
کردیا ہے۔
ایک
درزی ولی الدین کا کہنا تھا کہ کام بہت زیادہ آیا ہوا ہے اور لوگوں کا
رش بہت ہوجاتا ہے اس کی وجہ سے بکنگ بند کردی ہے البتہ پرانے گاہکوں
کیلئے تھوڑی گنجائش چھوڑی ہے، ان سے ابھی بھی کپڑوں کی بکنگ کررہے ہیں
تاہم نئے گاہکوں کو واپس لوٹا رہے ہیں جس کی وجہ ایک لائٹ کامستقل نہ ہونا
بھی ہے اور کچھ کاریگر بھی تنگ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ کپڑوں کی سلائی سال
بھر ایک ہی ہوتی ہے ہم عید کے موقع پر سلائی کے دام بڑھاتے نہیں ہیں اور
کوشش کرتے ہیں وقت پر گاہکوں کو سوٹ دیدیں لیکن اس کے باوجود تھوڑی بہت دیر
ہوہی جاتی ہے۔
ایک
اور درزی محمد اصغر کا کہنا تھا کہ عید کے موقع پرمردوں کے مقابلے میں
لیڈیز کے کپڑے زیادہ سلنے کیلئے آتے ہیں کیونکہ خواتین زیادہ کپڑے پہنتی
ہیں۔ ان دنوں کام اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ گھروں پر کپڑے سینے والی خواتین
بھی ہمارے پاس سلائی کیلئے کپڑے بھجوادیتی ہیں۔